رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ پشاور ہائیکورٹ کے سنگل بینچ کا فیصلہ الیکشن ایکٹ 2017 کی خلاف ورزی ہے۔
تفصیلات کے مطابق سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں پاکستان مسلم لیگ (ن) پنجاب کے صدر اور سابق وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کو الیکشن کمیشن پر حملہ اور پری پول رگنگ قرار دے دیا۔
لاہور: 28 دسمبر— پاکستان مسلم لیگ (ن) پنجاب کے صدر اور سابق وزیر داخلہ رانا ثناء اللّٰہ خاں نے پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کو الیکشن کمیشن پر حملہ اور پری پول رگنگ قرار دے دیا
پشاور ہائیکورٹ کے سنگل بینچ کا فیصلہ الیکشن ایکٹ 2017 کی خلاف ورزی ہے
جج صاحب کے کزن پی ٹی آئی کے ٹکٹ پہ…
— PMLN Digital (@PMLNDigital) December 28, 2023
پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر رانا ثناء اللہ نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پشاور ہائیکورٹ سنگل بینچ کا فیصلہ الیکشن ایکٹ 2017 کی خلاف ورزی ہے۔
پاکستان مسلم لیگ (ن) پنجاب کے صدر اور سابق وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے مزید کہا کہ جج صاحب کے کزن پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑ رہے ہیں اس لیے یہ فیصلہ ہی آنا تھا، جج صاحب قانون اور انصاف پر چلتے تو یہ کیس ہی نہ سنتے، مفادات کا ٹکراؤ ہوتے ہوئے بھی جج صاحب نے کیس سنا اور کزنز کی جماعت کو ریلیف دیا۔
الیکشن کمیشن کا فیصلہ معطل، تحریکِ انصاف کو بلے کا نشان واپس کرنے کا حکم
پشاور ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کا فیصلہ معطل کرتے ہوئے تحریکِ انصاف کو بلے کا نشان واپس کرنے کا حکم دیا ہے۔
پشاورہائی کورٹ میں جسٹس کامران حیات میاں خیل نے پی ٹی آئی کی درخواست پر سماعت کی جبکہ گوہرعلی خان، بیرسٹرعلی ظفر، بابراعوان اور دیگر وکلا عدالت میں پیش ہوئے۔
عدالت نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا 22 دسمبر کا آرڈرمعطل کیا جاتا ہے۔ الیکشن 8 فروری کو اورنشانات13 جنوری کو ہونے جا رہے ہیں۔ اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک جماعت کو انتخابی نشان سے محروم کیا جارہا ہے۔
انٹرا پارٹی انتخابات اور انتخابی نشان واپسی کے خلاف کیس میں پی ٹی آئی درخواست پر پشاور ہائیکورٹ نے تحریری فیصلہ جاری کیا۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ایک سیاسی جماعت کو انتخابی نشان سے محروم کیا گیا ہے، ووٹ کے خواہشمند اپنی پسند کی پارٹی کو ووٹ دینے سے محروم کیا گیا، الیکشن کمیشن کے فیصلہ کو معطل کیا جاتا ہے اور الیکشن کمیشن سمیت تمام فریقین کو نوٹس بھی جاری کیا جاتا ہے کہ پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات کا سرٹیفیکیٹ ویب سائٹ پر پبلش کیا جائے،پی ٹی آئی کا بلے کا نشان بھی بحال کیا جائے۔
جاری کردہ فیصلے کے مطابق آئندہ سماعت 9 جنوری 2024 کو ہوگی، الیکشن کمیشن فیصلے معطلی کا حکم 9 جنوری 2024 تک نافذ العمل رہے گا۔8 فروری کو عام انتخابات ہونے جارہے ہیں، 13 جنوری 2024 کو انتخابی نشان الاٹ ہوں گے۔

















