ملائیشیا کے انسداد بدعنوانی کے ادارے نے اختیارات کے ناجائز استعمال پر سابق وزیر خزانہ کے خلاف تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
تفصیلات کے مطابق ملائیشیا کی انسداد بدعنوانی ایجنسی نے کہا ہے کہ وہ سابق وزیر خزانہ اور سابق وزیر اعظم مہاتیر محمد کے اہم اتحادی دائم زین الدین کے خلاف ملک میں اختیارات کے غلط استعمال اور منی لانڈرنگ قوانین کے تحت تحقیقات کر رہی ہے۔
سابق وزیر اعظم مہاتیر محمد کے اتحادی دائم زین الدین نے اس تحقیقات کو سیاسی انتقام قرار دیا ہے۔
ملائیشیا کے اینٹی کرپشن کمیشن نے آج کے روز جاری ہونے والے ایک بیان میں اس ماہ میڈیا رپورٹس کی تصدیق کی ہے کہ اس نے ملائیشیا کے دارالحکومت کوالالمپور میں 60 منزلہ عمارت الہام ٹاور کو اپنی تحقیقات کے حصے کے طور پر قبضے میں لے لیا ہے۔
85 سالہ سابق وزیر خزانہ دائم نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا کہ انہوں نے تمام غلط کاموں سے انکار کیا اور کہا کہ ایم اے سی سی سے بار بار پوچھنے کے باوجود انہیں یہ نہیں بتایا گیا کہ انہوں نے مبینہ طور پر کون سا جرم کیا ہے۔
دائم زین الدین نے اپنے خلاف تحقیقات کو انسداد بدعنوانی ایجنسی اور وزیر اعظم انور ابراہیم کی جانب سے چلائی جانے والی سیاسی انتقامی کارروائی قرار دیا۔
گزشتہ سال اقتدار میں آنے والے انور نے اعلیٰ سطح کی کرپشن کے خاتمے کا وعدہ کیا ہے۔ اس سال مارچ میں انہوں نے وعدہ کیا تھا کہ وہ بدعنوانی سے بغیر کسی خوف یا جانبداری کے نمٹیں گے۔
لیکن انہیں بعض ناقدین کی جانب سے سیاسی حریفوں کو نشانہ بنانے کے الزامات کا بھی سامنا کرنا پڑا ہے۔
دائم نے 1984 اور 1991 کے درمیان دو بار خزانہ کا قلمدان سنبھالا ، جب انور نے ان کی جگہ لی۔ اور 1999 سے 2001 تک انور کو اس وقت کے وزیر اعظم مہاتیر محمد نے مبینہ بدعنوانی اور بدانتظامی کے الزام میں برطرف کر دیا تھا۔




















