اسرائیلی رکن پارلیمنٹ موشے سعدا نے فلسطین کی مخالفت میں شرمناک بیان دیتے ہوئے کہا کہ غزہ میں موجود ہر ایک فلسطینی کو قتل کردو۔
حماس کی جانب سے اسرائیل پر حملے کے بعد اسرائیلی وزراء بوکھلاہٹ کا شکار ہیں اور وہ اب غزہ کی پٹی میں موجود تقریباً 23 لاکھ کی آبادی کو بے گھر کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں جس پر عرب ممالک سمیت یورپی یونین نے شدید مذمت کی ہے لیکن ایسے میں ایک اسرائیلی رکن پارلیمنٹ نے مزید خوفناک بیان دیکر اسرائیلی عزائم ظاہر کردیے ہیں۔
اسرائیلی کنیسٹ (پارلیمنٹ) کے ممبر موشے سعدا نے ایک چینل پر انٹریو دیتے ہوئے یہ دعویٰ کیا کہ اسرائیلیوں کی اکثریت غزہ کے لوگوں کے خاتمے کا مطالبہ کر رہی ہے۔
ח״כ משה סעדה מהליכוד:
״היום ברור לכולם שצריך להשמיד את כל העזתים״. pic.twitter.com/9WTbvX0Vc4— Yuval Ganor יובל גנור (@yuval_ganor) January 2, 2024
انٹریو کے دوران اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کی پارٹی کے اہم رکن موشے سعدا نے عرب دشمنی میں غزہ میں موجود تمام انسانوں کو ہلاک کرنے کا مطالبہ کیا اور ہرزہ سرائی کی کہ آج سب پر یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ فلسطینی ریاست کے قیام کو مسترد کرنے کا حق ایماندارنہ اور درست تھا۔
رکن کنیسٹ نے غزہ کی پٹی کے بسنے والے فلسطینی باشندوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ آج آپ جہاں کہیں بھی جائیں، وہ آپ سے کہتے ہیں کہ ان کو نیست و نابود کر دیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ میرے ساتھی جن کے ساتھ میں نے ریاستی پراسیکیوٹرکے دفتر میں خدمات انجام دیں یہاں تک کہ (بائیں بازو کے) ارکان بھی مجھ سے کہتے ہیں کہ اے موشے ان کو ختم کردینا ہے۔
واضح رہے کہ یہ بیانات اس وقت سامنے آئے جب اسرائیلی وزراء بالخصوص انتہائی دائیں بازو کے وزیر برائے قومی سلامتی ایتمار بن گویر اور وزیر خزانہ بزلئیل سموٹریچ نے غزہ سے فلسطینیوں کی نقل مکانی اور ان کی جگہ آبادکاروں کو بسانے کا مطالبہ کیا ہے۔




















