برطانیہ میں سعودی عرب کے سفیر شہزادہ خالد بن بندر بن سلطان بن عبدالعزیز نے کہا ہے کہ وہ غزہ کی پٹی میں فوری جنگ بندی چاہتے ہیں اور اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانا چاہتے ہیں۔
سعودی عرب کے سفیر شہزادہ خالد بن بندر بن سلطان بن عبدالعزیز نے برطانوی نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ جنگ کے بعد کی صورت حال کا کوئی مثالی حل نہیں ہے، بین الاقوامی برادری ابھی تک جنگ بندی پر متفق نہیں لہذا سب سے پہلے جنگ بندی پر متفق ہونے کی ضرورت ہے۔
سعودی سفیر کا کہنا تھا کہ سعودی عرب، اسرائیل کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے میں دلچپسپی رکھتا ہے تاہم اسرائیل کی موجود حکومت تنازع کو ختم کرنے کے بجائے تشدد پر عمل پیرا ہے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ گذشتہ سات اکتوبر کو حماس کے حملے سے قبل مملکت اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کے حوالے سے بات چیت جاری تھی جب کہ ان بات چیت میں جو چیز اہم ہے وہ یہ ہے کہ ان کے حتمی نتائج میں کم از کم ایک آزاد فلسطینی ریاست شامل ہو۔
شہزادہ خالد بن بندر نے زور دے کر کہا کہ 7 اکتوبر کے حملے کے باوجود سعودی عرب اب بھی اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے میں دلچسپی رکھتا ہے۔ انہوں نے 1982ء میں شاہ فہد کے عرب امن منصوبے کی طرف اشارہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب اسرائیل کے ساتھ تعلقات میں دلچسپی رکھتا ہے۔ تاہم فلسطینی ریاست کے بغیر اسرائیل کے ساتھ نہیں رہ سکتے۔
انہوں نے دونوں فریقوں کی طرف سے تشدد کا سلسلہ بند کرنے کی ضروت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اب تک 20 ہزار سے زائد افراد مارے جاچکے ہیں اور غزہ کی 80 فیصد سے زائد آبادی بے گھر ہوچکی ہے۔
سعودی سفیر کا کہنا تھا کہ مستحکم آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے بغیر کسی اور چیز کی اہمیت نہیں ہے، کیونکہ اس کا نتیجہ تنازع کا طویل مدتی حل فلسطینی ریاست کے بغیر اور کوئی نہیں ہو گا۔ یہ تنازع 100 سال پہلے سے چلا آ رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ فلسطینی اتھارٹی کے پاس غزہ میں کردار ادا کرنے کے لیے بہت سے وسائل موجود ہیں جب کہ اس کردار کی نوعیت کا تعین فلسطینیوں، عالمی برادری اور اسرائیلیوں کے ساتھ بات چیت کے ذریعے کیا جانا چاہیے۔
سعودی سفیر کا کہنا تھا کہ اسرائیلی حکومت اب بھی جنگ کے پہلے مرحلے کو ختم کرنے کی بات کر رہی ہے، جنگ روکنے کے لیے جو کوششیں کی گئی ہیں وہ ناکافی ہیں جب کہ اسرائیل نے جو حرکتیں غزہ میں کی ہیں ، اگر کسی اور نے ایسا کیا ہوتا تو اسے نہ صرف عالمی برادری سے خارج کردیا جاتا بلکہ اب تک اس پر مختلف پابندیاں بھی عائد کردی جاتیں۔
ایک سوال کے جواب میں سفیر نے کہا کہ وہ برطانیہ کے موقف میں مزید اعتدال پسندی کی امید رکھتے ہیں اور وہ یہ دیکھنے کی امید رکھتے ہیں کہ پوری دنیا اسرائیل کے ساتھ وہی سلوک کرتی ہے جیسا کہ وہ دوسروں کے ساتھ کرتا ہے۔
اس سوال کے جواب میں کہ کیا وہ حماس کو غزہ کی جنگ کے سیاسی حل کے ایک حصے کے طور پر دیکھتے ہیں سعودی سفیر نے زور دیا کہ یہ معاملہ بہت سوچ بچار اور کام کا متقاضی ہے۔




















