صدر سندھ آئی پی پی محمود مولوی کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کو بلے کا نشان دینے کا فیصلہ حیران کن ہے۔
پشاور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشن اور انتخابی نشان سے متعلق کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے تحریک انصاف کا انتخابی نشان بلا بحال کر دیا۔
جسٹس اعجاز انور اور جسٹس سید ارشدعلی پر مبنی دو رکنی بینچ نے الیکشن کمیشن کا فیصلہ معطل کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کو پی ٹی آئی کو انتخابی نشان کا سرٹیفکیٹ بھی جاری کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی سیاسی جماعت ہے اور انتخابی نشان کی حقدار ہے۔
استحکام پاکستان پارٹی سندھ کے صدر محمود مولوی نے پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے پر رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کو انتخابی ضوابط کی خلاف ورزی کرنے کے باوجود بلے کا نشان دینے کا فیصلہ حیران کن ہے۔
صدر سندھ آئی پی پی محمود مولوی کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ پہلے ہی قرار دے چکی ہے کہ ایسے فیصلے ہائی کورٹس کے دائرہ اختیار میں نہیں آتے، ایک ہائی کورٹ کی جانب سے پورے ملک میں بلے کا نشان مخصوص پارٹی کو دینا سوالیہ نشان ہے۔
محمود مولوی نے کہا کہ پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے سے ثابت ہوتا ہے کہ عدالتوں میں اب بھی ایک پارٹی سے وابستہ جج موجود ہیں، سانحہ 9 مئی میں ملوث دہشت گردوں کو بھی مخصوص جج مسلسل ریلیف دیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایک ہی عدالت سے اب تک 116 مقدمات میں ملوث سیاسی دہشت گردوں کو ریلیف دیا جا چکا ہے، جانبدارانہ اور من پسند فیصلے عدالتوں پر عوامی اعتماد کو ٹھیس پہنچا سکتے ہیں، نچلی عدالتوں کی جانب سے ایسے فیصلوں سے قومی سلامتی کے معاملات متاثر ہوں گے۔

















