Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

امریکہ میں نوکری کے خواہشمندوں کیلئے بڑی خوشخبری

امریکہ میں نوکری کے خواہشمندوں کیلئے بڑی خوشخبری آگئی ہے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق امریکا نے ایچ ون بی فارن ورک ویزا کی تجدید کیلئے ایک پائلٹ پروگرام کا آغاز کردیا، جس سے ہزاروں بھارتی اور چینی ٹیک پروفیشنلز کو فائدہ پہنچنے کا امکان ہے۔

رپورٹ کے مطابق 29 جنوری کو شروع ہونے والا پائلٹ تجدید پروگرام یکم اپریل تک جاری رہے گا، اس کے تحت ایچ ون بی ویزا ہولڈرز جنہیں اپنے ویزے کی تجدید کی ضرورت ہے، وہ عارضی طور پر بیرون ملک سفر سے قبل امریکا میں اپنے ویزے کی تجدید کرسکتے ہیں۔

اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ پائلٹ پروگرام 29 جنوری 2024 سے یکم اپریل 2024 تک درخواستیں قبول کرے گا۔

تقریباً دو دہائیوں میں یہ پہلا موقع ہے کہ محدود تعداد میں ایچ ون بی غیر تارکین وطن امریکا کے اندر سے اپنے ویزوں کی تجدید کرسکیں گے۔

اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کا کہنا ہے کہ پائلٹ پروگرام رضاکارانہ ہے اور یہ ہر ہفتے تقریباٍ 4 ہزار درخواستوں کی اجازت دیگا، جن میں سے 2 ہزار ایسے درخواست گزاروں کیلئے ہیں جن کے پہلے ایچ ون بی ویزا کینیڈا کے سفارتی مشنوں نے جاری کئے تھے۔

اس کے علاوہ 2 ہزار ایسے درخواست دہندگان کیلئے ہوں گے جن کے پہلے ایچ ون بی ویزا بھارت میں امریکی سفارتخانوں اور قونصل خانوں کی طرف سے جاری کیے گئے تھے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایچ ون بی ویزوں کے خواہشمندوں کیلئے درخواستیں 29 جنوری، 5 فروری، 12 فروری، 19 فروری اور 26 فروری کو جاری کی جائیں گی، ویزے کے خواہشمند انہی مخصوص تاریخوں کے دوران صرف لنک کردہ پورٹل کے ذریعے درخواست دے سکیں گے۔

محکمہ خارجہ کو درخواست دہندہ کا پاسپورٹ اور دیگر مطلوبہ دستاویزات موصول ہونے کی تاریخ سے دیگر پروسیسنگ تک 6 سے 8 ہفتے کا وقت لگے گا۔

اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کا کہنا ہے کہ تمام درخواستوں کو پہلے موصول اور پہلے کارروائی کی بنیاد پر نمٹایا جائے گا۔

امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے مطابق وہ افراد جو پائلٹ پروگرام میں شرکت کی شرائط پر پورا نہیں اترتے یا جو پائلٹ پروگرام میں حصہ نہ لینے کا انتخاب کرتے ہیں، وہ بیرون ملک امریکی سفارتخانے یا قونصل خانے میں ویزے کی تجدید کیلئے درخواستیں دے سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ ایچ ون بی ایک نان امیگرنٹ ویزا ہے جو امریکی کمپنیوں کو خصوصی شعبوں میں غیر ملکی کارکنوں کو ملازمت دینے کی اجازت دیتا ہے تاہم اس کیلئے تکنیکی مہارت کی ضرورت ہوتی ہے۔

متعلقہ خبریں