وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی نے کہا ہےکہ صحت اور تعلیم کے شعبوں پر اربوں روپے خرچ کئے جاررہے ہیں۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی کی زیر صدارت محکمہ خزانہ اور محکمہ ترقیات و منصوبہ کا اعلٰی سطحی جائزہ اجلاس ہوا جس میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری ترقیات و منصوبہ بندی عبدالصبور کاکڑ، سیکرٹری پلاننگ لعل جان جعفر اور سیکرٹری خزانہ بابر خان نے وزیراعلیٰ بلوچستان کو بریفنگ دی۔
اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی نے کہا کہ سروس ڈلیوری کا نظام مؤثر اور غیر ترقیاتی اخراجات کا حجم کم کیا جائے، صحت اور تعلیم کے شعبوں پر اربوں روپے خرچ کئے جاررہے ہیں تاہم نتائج تسلی بخش نہیں۔
میر سرفراز احمد بگٹی نے کہا کہ تعلیمی اداروں میں روایتی تعلیم کے ساتھ اسکلز ڈویلپمنٹ پروگرام بھی ضروری ہے جبکہ سرکاری محکموں میں افرادی قوت کی پیشہ وارانہ استعداد کار میں اضافہ ضروری ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ سالانہ ترقیاتی پروگرام دستیاب مالی وسائل کے اندر رہتے ہوئے تشکیل دئیے جائیں، نظام میں موجود سقم کو دور کرکے احتساب اور جوابدہی کا موثر عمل ضروری ہے۔
سرفراز احمد بگٹی کا کہنا تھا کہ سرکاری نوکری وراثتی تقسیم نہیں،تصور درست کرنے کی ضرورت ہے جبکہ صرف سرکاری نوکریاں بیروزگاری کا پائیدار حل نہیں، مختلف نجی شعبوں میں روزگار کے متبادل ذرائع پیدا کئے جائیں گے۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ گورننس ٹھیک کرنے کے لئے ہر طرح کا پولیٹیکل پریشر لینے کے لئے تیار ہوں، لوگوں تک حکومتی اقدامات کے ثمرات پہنچنا ضروری ہیں۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی کا مزید کہنا تھا کہ اسکولوں میں ٹیچرز اور اسپتالوں میں طبی عملے کی غیر حاضری قطعی قابل برداشت نہیں، سی ایم آئی ٹی کی رپورٹس اور سفارشات پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے گا۔

















