ڈسٹرکٹ جوڈیشری کے ججزنے اسلام آباد ہائیکورٹ کوخط لکھا ہے جس میں جسٹس محسن اخترکیخلاف بڑے الزامات لگائے گئے۔
ڈسٹرکٹ جوڈیشل افسران نے خط میں لکھا کہ نشانہ بنایاجارہا، احساس محرومی، استحصال کاشکارہیں۔
خط میں جسٹس محسن اخترکیانی پراقرباءپروری، وکلاوججزکے مخصوص گروپ کی سرپرستی کےالزامات بھی عائد کیے گئے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کو لکھے گئے خط میں من پسند جونیئرزکو پروموٹ کرنےکیلئےافسران کاریکارڈ خراب کرنے اوراسلام آباد ہائی کورٹ ایکٹ 2010 کی خلاف ورزی کا بھی الزام لگایا گیا۔
خط میں اسلام آباد جوڈیشل سروس رولز2011کی خلاف ورزی کابھی الزام لگایاگیا، خلاف قواعد2 ججزکواسلام آباد جوڈیشل سروس میں برقراررکھا گیا۔
ماتحت عدلیہ کےججزکےخط میں بیرسٹرفہد قتل کیس فیصلےپراثراندازہونےکاالزام بھی عائد ہے۔ جسٹس کیانی کوساتھیوں کے ذریعے عدالتی افسران کودھمکیاں دینےکی عادت ہے۔
چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کولکھا خط 29 اپریل کوارسال کیا گیا۔ خط رجسٹراراسلام آباد ہائیکورٹ کےایڈریس پرارسال کیاگیا۔
خط میں جسٹس محسن اخترکیانی کے قریبی وکلا و ججزکے نام بھی لکھےگئے۔ خط میں مبینہ طورپرمتاثرہ کئی ججزکےنام اورواقعات کی تفصیل بھی شامل ہیں۔

















