موجودہ امریکی صدر جو بائیڈن اور سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان 2024 کا صدارتی مباحثہ ریاست جورجیا کے شہر ایٹلانٹا میں ہو رہا ہے۔
مباحثے میں امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا کہ جب میں نےصدارت سنبھالی تومعیشت بہت خراب تھی۔ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں ملک میں نوکریوں میں کمی ہوئی،یقینی بناؤں گاکہ ملازمتوں میں اضافہ ہو اور گھروں کی خریداری آسان ہو۔
امریکی صدر نے کہا کہ ٹرمپ کےٹیکس چھوٹ سےصرف امیروں کوفائدہ پہنچاہے۔امیروں پرٹیکس کی آمدنی سےعوامی فلاح کےکام ہوسکتےہیں۔
انہوں نے مزید کہاکہ اسقاط حمل کے معاملے میں ٹرمپ نے جواقدامات کیے وہ غلط تھے۔اسقاط حمل سےمتعلق فیصلہ سیاستدان کونہیں خاتون اورڈاکٹرکوکرناہے۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ٹرمپ دور میں بارڈرپرخواتین اور بچوں کوپنجروں میں بندکیاگیا۔
جو بائیڈن نے کہا کہ غزہ میں جنگ بندی کیلئےہمارےمنصوبےکوعالمی حمایت حاصل ہے۔ہم اسرائیل کےساتھ ہیں،حماس کاخاتمہ ہوناچاہیے،امریکہ اسرائیل کی سب سےزیادہ مددکرتاہےاوروہ جاری رکھےگا۔
ان کا کہنا تھا کہ پیوٹن جنگی جرائم میں ملوث ہے،یوکرین کی مددجاری رکھیں گے۔
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ میرےدور میں معیشت کی جوحالت تھی اس کی دنیانےتعریف کی۔ہم نے جس طرح کورونا کوسنبھالااس کا ہمیں کریڈٹ جاتا ہے۔
ڈونلڈٹرمپ کا کہنا تھا کہ جو بائیڈن نےملک کوتباہی کےدہانےپرپہنچادیا، دنیا اب ہماری عزت نہیں کرتی،امریکہ تیسری دنیاکا ملک بن چکاہے۔
انہوں نے کہا کہ میں نےاسقاط حمل کےمعاملےمیں وہ کام کیاجس کامطالبہ تھا۔
سابق امریکی صدر نے مزید کہا کہ ہمارے دورمیں بارڈر محفوظ ترین تھاآج خطرناک ترین ہے۔لاکھوں جرائم پیشہ افرادغیرقانونی طریقےسےامریکہ میں داخل ہورہے ہیں۔امریکہ میں اس وقت کوئی سرحدنہیں،کرمنلزشہریوں کوقتل کررہےہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ آج امریکی صدرعالمی عزت دار ہوتاتوروس کبھی یوکرین پرحملہ نہ کرتا۔اگر میں صدرہوتاتوحماس کبھی بھی اسرائیل پرحملہ نہیں کرسکتاتھا۔ایران میرے دورمیں کمزور ہوچکاتھا،جوبائیڈن کی کمزوری خارجہ پالیسی کےباعث ایران مضبوط ہوا۔




















