اسلام آباد: قومی اسمبلی کے بعد سینیٹ نے بھی نجکاری کمیشن ترمیمی بل 2024 متفقہ طور پر منظور کرلیا۔
وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے نجکاری کمیشن ترمیمی بل اور ٹیلی کمیونیکیشن اپیلیٹ ٹریبونل بل 2024 ایوان بالا میں پیش کیا۔
دونوں بل قومی اسمبلی سے منظور ہو کر سینیٹ میں لائے گئے، تاہم ایوان نے نجکاری کمیشن ترمیمی بل اور ٹیلی کمیونیکیشن اپیلیٹ ٹریبونل بل کی کثرت رائے سے منظوری دے دی۔
واضح رہے کہ چند روز قبل وفاقی وزیر علیم خان نے نجکاری کمیشن ترمیمی بل قومی اسمبلی میں پیش کیا تھا، ایکٹ نجکاری کمیشن 2024 کے نام سے موسوم ہوگا جبکہ بل کے تحت نجکاری اپیلٹ ٹریبونل قائم کیا جائے گا۔
بل کے متن میں کہا گیا کہ اپیلٹ ٹریبونل کو عدالتی اختیارات حاصل ہوں گے، ٹریبونل کے چیئرمین اور اراکین کی مدت ملازمت تین سال ہوگی اور ارکان کی عمر 65 سال سے زائد نہیں ہوگی۔
ترمیمی بل کے مطابق عدالت عظمیٰ کا ریٹائرڈ جج ٹریبونل کا چیئرمین ہوگا، حکومت ایک چیئرمین، ایک تکنیکی رکن اور ایک عدالتی رکن پر مشتمل ٹریبونل تشکیل دے گی۔
ترمیمی بل میں کہا گیا کہ وفاقی حکومت ٹریبونل کے چیئرمین یا رکن کو نوٹس پر برطرف کرسکے گی، ٹریبونل کے قیام کا مقصد منصفانہ اور شفاف طریقے سے نجکاری کا عمل مکمل کرنا ہے۔
بل کے مطابق ٹریبونل کو تمام معاملات پر فیصلے دینے کا خصوصی اختیار حاصل ہوگا، ٹریبونل کو دیوانی عدالت کا اختیار بھی حاصل ہوگا۔
ترمیمی بل میں مزید بتایا گیا کہ ٹریبونل کے فیصلے کے خلاف 60 دن کے اندر صرف سپریم کورٹ میں اپیل ہوسکے گی جبکہ ایکٹ میں ترمیم سے نجکاری کے بروقت حل کو یقینی بنایا جاسکے گا۔

















