ذرائع کا کہنا ہے کہ ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی اسمگلنگ روکنے کیلئے اقدامات کے معاملے پراوگرا نے ریفائنریزاور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں سے 8 ماہ کی سیل کا ڈیٹا مانگ لیا۔
اوگرا ذرائع کے مطابق کون سے ذرائع سے اورکتنی اسمگلنگ ہو رہی ڈیٹا کے ذریعے جانچ پڑتال کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ پیٹرول پمپوں کی سیل اورڈپو کی سپلائی کے ڈیٹا کی جانچ پڑتال کا حصہ ہوگی۔
اوگرا حکام کا کہنا پیٹرول پمپوں پرسیل، ریفائنریر سے کتنا تیل لیا جا رہا، جانچ پڑتال کا حصہ ہوگی۔ تیل سے متعلق یومیہ اورماہانہ بنیادوں پر ڈیٹا کی جانچ پڑتال کی جائے گی۔
اوگرا ذرائع نے بتایا کہ ڈیٹا کی جانچ پڑتال سے معلوم ہوگا، ڈیزل اور پیٹرول کتنا اسمگل ہورہا ہے۔ جانچ پڑتال سے اسمگل شدہ مال کہاں سے کتنا مکس کیا جاتا ہے معلوم ہوگا۔
اوگرا حکام کے مطابق ریفائنریز سے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا ڈیٹا پہلے ہی دستاویزی ہے، اسمگلنگ کا پتہ لگانے کیلئے ڈیٹا کی جانچ پڑتال ضروری ہے۔
اوگرا ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ حکومت اسمگلنگ کی روک تھام کیلئے سپلائی چین کا جائزہ لینا چاہتی، ڈیزل کی یومیہ قانونی فروخت 16 ہزار، پیٹرول کی 22 ہزارمیٹرک ٹن ہے، اسمگل پیٹرول اورڈیزل 40 فیصد مارکیٹ کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔

















