اسرائیل نے یکم اکتوبر کے ایرانی بیلسٹک میزائل حملوں کے بعد جوابی کارروائی کرتے ہوئے ایرانی دارالحکومت تہران ، شیراز اور کرج سمیت 7 مقامات پر فضائی حملہ کردیا۔
امریکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے ایران کے ساتھ ساتھ عراق اورشام پربھی حملہ کیا۔ ایران کے ایئرپورٹ کے قریب متعدد دھماکے سنے گئے جس کے بعد کئی مقامات پر آگ لگ گئی۔
اسرائیل فوج کےسربراہ نےایران پر حملے کی تصدیق کردی۔
شام اور عراق میں بھی دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں جس کے بعد فضائی دفاعی نظام فعال کر دیا گیا۔
عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے ایران میں اسلامی انقلابی گارڈز کور کے ہیڈکوارٹر پر حملہ کیا۔اردن،عراق اورشام پر امریکی اور اسرائیلی لڑاکا طیاروں کی پروازیں بھی جاری ہیں۔
عرب میڈیا کا کہنا ہے کہ ابھی تک یہ واضح نہیں ہوسکا کہ اسرائیل نے حملے میں کس قسم کے ہتھیار استعمال کیے۔
امریکی سنٹرل کمانڈ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گہا کہ امریکی ایف 16 لڑاکا طیارے جرمنی سے مشرق وسطیٰ پہنچ گئے ہیں۔ امریکی لڑاکا طیارے اسرائیل کے ایران پر حملے سے قبل مشرق وسطیٰ پہنچے۔
ترجمان اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ ایران میں فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ ایران پر حملے سے قبل امریکی حکام کوآگاہ کردیا تھا۔
امریکی نیشنل سیکیورٹی کونسل کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے ایران کی فوجی تنصیبات کونشانہ بنایا۔امریکہ اسرائیل کے ایران پر حملے میں شامل نہیں ہے۔
بین الاقوامی خبررساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو اور وزیر دفاع یووگیلنٹ نے ایران پر حملوں کی نگرانی کی۔ زیر زمین کمانڈر ہیڈ کوارٹر میں اسرائیلی وزیراعظم کے ساتھ فوج کے اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔
اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ درجنوں اسرائیلی طیاروں نے ایران میں فوجی مقامات اور پاوراسٹیشنز پر حملے کیے۔




















