واشنگٹن: امریکہ میں نئے صدر کے انتخاب کے لیے ووٹنگ کا عمل جاری ہے جس کے نتائج کا جنوبی ایشیا کی پالیسی پر اثر انداز نہ ہونے کا امکان ہے۔
ماہرین کے مطابق امریکہ میں جاری صدارتی انتخابات کے نتائج جنوبی ایشیا کی پالیسی پر اثر انداز نہیں ہوں گے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی امیدوار کی کامیابی سے خطے میں امریکی حکمت عملی میں کوئی بڑی تبدیلی متوقع نہیں ہے۔
سینئر تجزیہ کارمائیکل کوگل مین نے ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں لکھا ’’امریکی صدارتی انتخابات میں کسی بھی امیدوار کی جیت ہو، جنوبی ایشیا میں امریکی پالیسی میں تسلسل برقرار رہنے کا امکان ہے‘‘۔
انہوں نے بتایا ’’اس کی وجہ انڈو پیسیفک پالیسی ہے جو اب پورے ایشیا میں امریکی حکمت عملی کا اہم حصہ بن چکی ہے اور اس کو دونوں جماعتوں کی حمایت بھی حاصل ہے‘‘۔
ان کا مزید کہنا تھا ’’یہ پالیسی ٹرمپ کے دور میں شروع ہوئی تھی اور جوبائیڈن کے دور میں بھی جاری رہی‘‘۔
واضح رہے کہ امریکی صدارتی انتخابات میں ری پبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ اور ڈیموکریٹک پارٹی کی امیدوار کملا ہیرس کے درمیان کانٹے کا مقابلہ متوقع ہے۔




















