ڈیموکریٹس کے رکن ایوان نمائندگان ٹام سوازی کا کہنا ہے کہ ہمارا ہدف ایک مستحکم پاکستان دیکھنا ہے جو مستقبل میں کامیاب ہو۔
ڈیموکریٹس کے رکن ایوان نمائندگان ٹام سوازی نے بول کے اینکر عادل عباسی کو نیویارک میں خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ شکریہ کہ آپ نے مجھے شو میں بلایا، بے شک ہمارے پرانے تعلقات ہیں، اور یہ پیچیدہ بھی رہے ہیں، کبھی یہ بہت مضبوط اور مثبت رہے ہیں اور کہیں یہ ڈاؤن ہوتے نظر آئے ہیں، مگر میرا ہدف یہ ہو گا کہ دونوں ممالک کے تعلقات آگے بڑھیں۔
انہوں نے کہا کہ میں یہ تو نہیں بتاسکتا کہ صدر ٹرمپ ان تعلقات کو کیسے لے کر چلیں گے لیکن یہ ضرور کہہ سکتا ہوں کہ میں اس سلسلے میں کانگریس میں اپنا بھرپور کردار ادا کروں گا۔
انٹرویو کے دوران میزبان عادل عباسی نے سوال کیا کہ آپ اس سلسلے میں کیا اقدامات کرنے جا رہے ہیں، یا لے چکے ہیں؟ کہ جو دو طرفہ سفارتی تعلقات میں تعمیری ثابت ہوں؟
سوال کے جواب میں ٹام سوازی نے کہا کہ سب سے پہلے یہ کہ میں پاکستان جانا چاہتا ہوں، دوسرا یہ کہ میں واشنگٹن ڈی سی میں کانفرنس کرنا چاہوں گا جہاں امریکی اور پاکستانی سفارتکار اور دیگر متعلقہ حکام شرکت کریں اور پاکستان، امریکہ تعلقات میں پیشرفت پر تبادلہ خیال کریں۔
انہوں نے کہا کہ ایک جو بہت اہم بات ہے وہ اس ضرورت کو اجاگر کرنا ہے کہ امریکی سرمایہ کار پاکستان میں سرمایہ کاری کریں۔ میزبان عادم عباسی نے سوال کیا کہ آپ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کو ٹرمپ کی صدارت میں کس طرح دیکھتے ہیں؟
سوال کے جواب میں ٹام سوازی نے کہا کہ آپ کبھی نہیں جان سکتے کہ ٹرمپ کیا کرنے جا رہے ہیں، اس سوال کا جواب تو کسی کے پاس نہیں ہے، کوئی نہیں جانتا کہ کیا ہونے جارہا ہے، تاہم جہاں تک نئے صدر ٹرمپ کا تعلق ہے تو ہم دیکھ سکتے ہیں کہ گزشتہ حکومت میں انہوں نے کیا کیا۔ پاکستان ایک بہت اہم ملک ہے، اس کی بہت اسٹریٹجک اہمیت ہے، بہت اہم مقام پر واقع ہے، ایک نیوکلئیر طاقت ہے، ایک بہت بڑی آبادی کا ملک ہے جس میں نوجوانوں کی اکثریت ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان کو نجی سیکٹر میں سرمایہ کاری کی ضرورت ہے، یہی کامیاب اور منافع بخش ہو گا۔
میزبان عادم عباسی نے سوال کیا کہ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ افغانستان جنگ کے بعد امریکی انتظامیہ کا انٹرسٹ پہلے جیسا ہی ہے؟ جواب میں ٹام سوازی نے کہا کہ ہمیں لوگوں کو یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ پاکستان نے دہشت گردوں کے ہاتھوں بہت نقصان اٹھایا ہے، نہ کہ امریکہ نے اور ہمیں ان ہی خطوط پر تعلقات میں استحکام کی ضرورت ہے۔
ٹام سوازی نے کہا کہ ہمارا ہدف ایک مستحکم پاکستان دیکھنا ہے جو مستقبل میں کامیاب ہو، ہم پاکستان کو غیر مستحکم نہیں دیکھنا چاہتے کیونکہ یہ ایک نیوکلئیر پاور ہے، بہت سے پاکستانی میرے دوست ہیں، ہم پاکستان کو آگے بڑھتا دیکھنا چاہتے ہیں، میں پاکستان کی سیاست میں ملوث نہیں ہونا چاہتا کہ کون سے پاکستانی امریکی حکومت کے ساتھ ہیں یا اپوزیشن کے ساتھ ہیں، میں ان معاملات کی پیچیدگی کو سمجھ سکتا ہوں اور میں بالکل ملوث نہیں ہونا چاہتا، میں دونوں ممالک کے تعلقات میں استحکام دیکھنا چاہتا ہوں، تاکہ پاکستان کے عوام ترقی کریں۔
انٹرویو کے آخر میں میزبان عادل عباسی نے سوال کیا کہ آپ کب پاکستان آرہے ہیں؟ سوال کے جواب میں ڈیموکریٹس کے رکن ایوان نمائندگان ٹام سوازی کا کہنا تھا کہ رواں سال کے پہلے چھ ماہ میں پاکستان آؤں گا۔




















