Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

گاؤ کدل قتل عام کو 35 سال مکمل؛ زخم آج بھی تازہ

21 جنوری 1990 میں سرینگر کے پل گاؤ کدل پر بھارتی فورسز کی جانب سے 100 سے زائد افراد کو شہید جبکہ 300 زائد کو زخمی کر دیا گیا۔

بھارتی فوج کی جانب سے سری نگر کے علاقے میں گھروں پر دھاوا بول کر تقریباً 300 سے زائد بے گناہ کشمیریوں کو گرفتار بھی کیا گیا۔

قتل عام کا مقصد غاصب بھارتی فوج کا اپنی بربریت پر پردہ ڈالنا اور پرامن کشمیری مسلمانوں کو خوفزدہ کرنا تھا۔

ہندوستانی حکومت نے گاؤکدل کے قتل عام سے بچنے کیلئے بھونڈی کوشش کرتے ہوئے ایف آئی آر تک درج نہ کرائی، گاؤکدل کے قتل عام کو 35 سال گزرنے کے باوجود ابھی تک کسی ذمہ دار کو گرفتار نہیں کیا گیا۔

 انسانی حقوق کی تنظمیوں کی جانب سے دباؤ کے پیش نظر بھارتی حکومت نے نام نہاد انکوائری شروع کی جو کسی بھی نتیجے پر پہنچے بغیر 2014 کو ختم کردی گئی۔

بھارتی فوجیوں نے گزشتہ 35 برس میں 1لاکھ سے زائدنہتے کشمیریوں کو گولیوں کا نشانہ بنایا۔

گاؤکدل کا واقعہ خواتین کی بے حرمتی کے خلاف احتجاج کرنے کے دوران پیش آیا، گاؤ کدل قتل عام کے متاثرین گزشتہ 35 سال سے انصاف کے منتظر ہیں۔

35 سال گزرنے کے باوجود اس اندوہناک واقعے کے زخم آج بھی تازہ ہیں۔

متعلقہ خبریں