امریکا کے وسطی علاقوں میں شدید طوفانی بگولوں اور طوفانوں نے تباہی مچا دی، جس کے نتیجے میں اب تک کم از کم 27 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔
سب سے زیادہ ہلاکتیں ریاست میزوری اور کینٹکی میں ہوئیں جہاں حکام کے مطابق کم از کم 25 افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ ریاست ورجینیا میں بھی جانی نقصان کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
کینٹکی کے گورنر اینڈی بشیئر نے خبردار کیا کہ ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق بعض علاقوں میں پانچ پانچ گھر مکمل طور پر صفحہ ہستی سے مٹ چکے ہیں۔ مجھے خدشہ ہے کہ ایک پوری گلی کے تمام مکین جان سے جا چکے ہوں۔
مزید پڑھیں: امریکا میں طوفانی ہواؤں نے گھروں کی چھتیں ہی اڑا دی، ویڈیو دیکھیں
لاوریل کاؤنٹی، کینٹکی میں سب سے زیادہ جانی نقصان ہوا، جہاں 17 افراد جاں بحق ہوئے۔ گورنر کے مطابق جاں بحق ہونے والوں کی عمریں 25 سے 76 سال کے درمیان تھیں، جن میں زیادہ تر بزرگ شامل تھے۔
سینٹ لوئس، میزوری میں ایک چرچ کی عمارت کا حصہ منہدم ہونے سے کئی افراد پھنس گئے۔ ایک شخص جو چرچ کا دیرینہ خادم تھا، جانبر نہ ہو سکا۔ میئر کارا اسپینسر نے اس طوفان کو شہر کی تاریخ کے بدترین طوفانوں میں سے ایک قرار دیا۔
محکمہ موسمیات کے مطابق جمعہ اور ہفتہ کے دوران کم از کم 26 طوفانی بگولوں کی تصدیق ہو چکی ہے، جن میں زیادہ تر انڈیانا اور کینٹکی میں آئے۔ لندن، کینٹکی میں گھروں کی بنیادیں تک اکھڑ گئیں، ہوائی اڈے پر چھوٹے جہاز الٹ گئے اور درجنوں عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن گئیں۔
امدادی کارروائیاں جاری ہیں، جبکہ متاثرہ علاقوں میں شہری رضاکار بھی بحالی کے کاموں میں شریک ہیں۔




















