Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

بھارت نے ایران کا ساتھ چھوڑ دیا، تہران کودہلی سے تعلقات پر ازسر نو غورکرناہوگا!

بھارت نے ایران کا ساتھ چھوڑ دیا۔  بھارت، جو خود کو ایران کا اسٹریٹجک شراکت دار ظاہر کرتا رہا۔ اسرائیل ایران تنازع کے دوران تہران کی حمایت کرنے میں ناکام رہا۔

اس کی خاموشی اور خفیہ سرگرمیوں نے اس نام نہاد دوستی کی غیرسنجیدگی کو بے نقاب کر دیا۔

بھارت کی ایران کے ساتھ قربت کبھی حقیقی شراکت پر مبنی نہیں تھی۔ یہ شراکت پاکستان کے اثر و رسوخ کو کم کرنے کی ایک چال تھی۔

بھارت نے چابہار بندرگاہ اور دیگر منصوبوں میں شراکت کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا۔

مگر جب ایران پر دباؤ آیا تو خاموشی سے پیچھے ہٹ گیا۔

اسرائیل کے ایران پر حملوں کے دوران بھارت نے یکجہتی کے بجائے خاموشی اختیار کی ۔ تل ابیب کے ساتھ تعلقات کو ترجیح دی۔

دریں اثںابھارت نے اسرائیلی حملے کی مذمت سے بھی گریزکیا۔ اس کے مغربی  اسرائیلی بلاک کی جانب واضح جھکاؤ کو ظاہر کرتا ہے۔ جس سے مسلم دنیا میں اس کی ساکھ متاثر ہوئی۔

ایران کے خلاف اسرائیل کے ساتھ بھارتی خفیہ ایجنسی “را” کے تعاون کی اطلاعات بھارت کی نیتوں کو بے نقاب کرتی ہیں۔

بھارت کسی بھی ملک سے شراکتداری کے لئے قابل اعتماد نہیں

مزید براں تہران نے 72 بھارتی جاسوسوں کو گرفتار کیا ہے ۔ یہ جاسوس اسرائیل کو حساس معلومات دینے کے شبہ میں زیرتفتیش ہیں ۔ یہ ایک گہرے دھوکے کا ثبوت ہے۔

ایرانی سیکیورٹی اداروں نے بھارت کی جاسوسی سرگرمیوں کو اسرائیلی اہداف کے تعین سے جوڑا ہے۔

ایران کو غیر مستحکم کرنے میں خفیہ کردار ظاہر کرتاہے  کہ بھارتی خارجہ پالیسی اصولوں نہیں مفادات پرمبنی ہے۔

بحران پر G7 اجلاسوں میں بھارت کی مکمل غیر موجودگی اس کی عالمی سطح پرغیرمتعلق حیثیت کوظاہرکرتی ہے۔

واضح رہے کہ اب ایران کو بھارت سے تعلقات پراز سرنوغور کرنا چاہیے۔ جس نے بار بار تہران کو پاکستان مخالف ایجنڈے میں ایک مہرے کے طور پر استعمال کیا۔

بھارت نے ایران کا ساتھ چھوڑ دیا ،اس کی دوغلی پالیسی ثابت کرتی ہے کہ وہ کسی بھی خودمختاراوروفادار شراکت دار کیلیے قابلِ اعتمادنہیں۔

متعلقہ خبریں