Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

تل ابیب کی تباہی در اصل غزہ کے مظلوموں کی فریاد کا ہی اثر

تل ابیب کی تباہی در اصل غزہ کے مظلوموں کی فریاد کا ہی اثر ہے۔ دونوں کے مناظر یکساں مگر داستاں مختلف ہے۔

جو لوگ یہ مانتے ہیں کہ مظلوموں کی آہ و بکا اور فریادیں اثر نہیں رکھتیں۔ انہیں اپنی سوچ کا زاویہ اب تبدیل کر لینا چاہیے۔

گو کہ تباہی یا بلا جواز جنگ و جارحیت ایک شیطانی امر ہے ۔ لیکن اسرائیل اپنی اس  روش پر گزشتہ کئی دہائیوں سے عمل پیراں ہے۔

سوشل میڈیا پر تل ابیب کی تباہ شدہ عمارتوں اور گھروں کے مناظر کی ویڈیوز وائرل ہو رہی ہیں۔

غزہ کے مظلوموں کے پاس چھپنے کےلئے بنکرز بھی  نہیں

چونکہ اسرائیل  مضبوط معیشت رکھتا ہے اس لئے وہ تل ابیب کی تباہی پراپنی مالی آسودگی کے سبب جلدقابو پالے گا۔

مگر غزہ میں لوگ چھوٹے چھوٹے گھروں فلیٹس میں رہتے ہیں۔ غزہ کے مظلوم مالی لحاظ سے بھی زیادہ مستحکم نہیں۔ ان کے پاس بمباری سے بچنےکےلئے بنکرز بھی نہیں۔

یہی وجہ ہے کہ  اسرائیلی حارحیت کے سبب غزہ مکمل تباہ ہوچکا۔  ہزاروں معصوم بچے اپنے والدین کی گودوں میں شہید ہوئے۔ کئی ننھی زندگیاں ملبے تلے سسک سسک کر دم توڑ گئیں۔

غزہ میں معصوم زندگیوں کے ساتھ ساتھ دنیا میں انسانیت بھی دم توڑ گئی۔  پورا غزہ ملیا میٹ  اور اسرائیلی جارحیت کا نشانہ بن چکا۔

تل ابیب کی تباہی در اصل غزہ کے مظلوموں کی فریاد کا ہی اثر ہے ۔  اب تل ابیب جیسے ایک ترقی یافتہ شہر سے تباہی کے مناظر بار بار سامنے آرہے ہیں۔

اسرائیل کی شیطانی جارحیت مقبوضہ فلسطین ہی نہیں خود اس کے اپنے شہروں کوبھی کھنڈرات میں بدل رہی ہے۔

گوکہ جنگ یا تباہی کے مناظر بلا شبہ ناقابل دید  ہوتے ہیں ۔ مگر دہرے معیارات نے دنیا میں انسانیت کے دعوؤں کے قلعی کا پول کھول کر رکھ دیاہے۔

اسرائیلی شہری بھی اب غزہ کے مظلوموں کی طرح  جنگ اور بمباری روکنے کی فریادیں کررہے ہیں ۔

مغرب اسرائیلی شہروں تل ابیب ، حیفہ اور دیگر علاقوں کی تباہی دیکھ کر تلملا اٹھا ہے ۔

مگر غزہ میں جاری اسرائیل کی حیوانی جارحیت پر انسانیت کے نام نہاد علمبردار خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں۔

متعلقہ خبریں