تل ابیب کی تباہی در اصل غزہ کے مظلوموں کی فریاد کا ہی اثر ہے۔ دونوں کے مناظر یکساں مگر داستاں مختلف ہے۔
جو لوگ یہ مانتے ہیں کہ مظلوموں کی آہ و بکا اور فریادیں اثر نہیں رکھتیں۔ انہیں اپنی سوچ کا زاویہ اب تبدیل کر لینا چاہیے۔
گو کہ تباہی یا بلا جواز جنگ و جارحیت ایک شیطانی امر ہے ۔ لیکن اسرائیل اپنی اس روش پر گزشتہ کئی دہائیوں سے عمل پیراں ہے۔
سوشل میڈیا پر تل ابیب کی تباہ شدہ عمارتوں اور گھروں کے مناظر کی ویڈیوز وائرل ہو رہی ہیں۔
: An aerial view showing the devastation in Tel Aviv. pic.twitter.com/Yxf1SevFFW
— Defense Intelligence (@DI313_) June 19, 2025
غزہ کے مظلوموں کے پاس چھپنے کےلئے بنکرز بھی نہیں
چونکہ اسرائیل مضبوط معیشت رکھتا ہے اس لئے وہ تل ابیب کی تباہی پراپنی مالی آسودگی کے سبب جلدقابو پالے گا۔
مگر غزہ میں لوگ چھوٹے چھوٹے گھروں فلیٹس میں رہتے ہیں۔ غزہ کے مظلوم مالی لحاظ سے بھی زیادہ مستحکم نہیں۔ ان کے پاس بمباری سے بچنےکےلئے بنکرز بھی نہیں۔
یہی وجہ ہے کہ اسرائیلی حارحیت کے سبب غزہ مکمل تباہ ہوچکا۔ ہزاروں معصوم بچے اپنے والدین کی گودوں میں شہید ہوئے۔ کئی ننھی زندگیاں ملبے تلے سسک سسک کر دم توڑ گئیں۔
غزہ میں معصوم زندگیوں کے ساتھ ساتھ دنیا میں انسانیت بھی دم توڑ گئی۔ پورا غزہ ملیا میٹ اور اسرائیلی جارحیت کا نشانہ بن چکا۔
تل ابیب کی تباہی در اصل غزہ کے مظلوموں کی فریاد کا ہی اثر ہے ۔ اب تل ابیب جیسے ایک ترقی یافتہ شہر سے تباہی کے مناظر بار بار سامنے آرہے ہیں۔
Iranian missile strike moment on Israel caught on video. pic.twitter.com/GtlnjDGOGt
— Clash Report (@clashreport) June 19, 2025
اسرائیل کی شیطانی جارحیت مقبوضہ فلسطین ہی نہیں خود اس کے اپنے شہروں کوبھی کھنڈرات میں بدل رہی ہے۔
گوکہ جنگ یا تباہی کے مناظر بلا شبہ ناقابل دید ہوتے ہیں ۔ مگر دہرے معیارات نے دنیا میں انسانیت کے دعوؤں کے قلعی کا پول کھول کر رکھ دیاہے۔
اسرائیلی شہری بھی اب غزہ کے مظلوموں کی طرح جنگ اور بمباری روکنے کی فریادیں کررہے ہیں ۔
عوام نیتن یاہو کے خلاف بہت جلد سڑکوں پر ہونگے۔
یہودی معافیاں مانگ رہا ہے ایران سے۔
جنگ بند کرو ایران میں منت کرتا ہوں۔ pic.twitter.com/3JFn2bsAs7— ZEShan ⚫ (@zeshmohmand) June 18, 2025
مغرب اسرائیلی شہروں تل ابیب ، حیفہ اور دیگر علاقوں کی تباہی دیکھ کر تلملا اٹھا ہے ۔
مگر غزہ میں جاری اسرائیل کی حیوانی جارحیت پر انسانیت کے نام نہاد علمبردار خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں۔




















