Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

ایران امریکا تعلقات کی تاریخ، 1953 کی حکومت تبدیلی سے ٹرمپ کی فضائی کارروائی تک

امریکا اور ایران کے تعلقات میں کشیدگی کئی دہائیوں پر محیط ہے اور یہ کشیدگی حالیہ برسوں میں اپنے عروج پر پہنچ چکی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران کے جوہری تنصیبات پر براہ راست حملے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں ایک نیا موڑ آیا ہے۔

یہ حملے ایران کی جوہری صلاحیتوں کو نشانہ بنانے کے لیے کیے گئے تھے، اور ٹرمپ نے اس کارروائی کو ایران کے لیے ایک بڑا نقصان قرار دیا۔ لیکن ان تعلقات کی تاریخ میں جڑیں اس وقت سے جڑتی ہیں جب 1953 میں امریکا نے ایران میں حکومت کی تبدیلی میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

1953: امریکا کی حمایت سے حکومت کا تختہ الٹنا

امریکا اور ایران کے تعلقات کا آغاز 1953 میں اس وقت ہوا جب امریکی سی آئی اے نے ایران میں منتخب وزیراعظم محمد مصدق کی حکومت کا تختہ الٹا۔

مصدق نے برطانوی ایرانین آئل کمپنی (جو اب بی پی کے نام سے جانی جاتی ہے) کو قومی ملکیت میں لینے کی کوشش کی تھی، جس پر امریکا اور برطانیہ نے مل کر ایک خفیہ آپریشن کے ذریعے ان کی حکومت کو گرا دیا۔

اس کے بعد ایران میں شاہ محمد رضا پہلوی کو دوبارہ اقتدار میں لایا گیا، جو امریکا کا حامی تھا۔

1979: اسلامی انقلاب اور امریکا سے تعلقات کا خاتمہ

ایران میں 1979 میں آیت اللہ روح اللہ خمینی کی قیادت میں اسلامی انقلاب نے ایران میں جمہوریت کے خلاف استبدادی حکمرانی کے خاتمے کے بعد امریکا کے ساتھ تعلقات میں نیا موڑ لایا۔

خمینی کے اقتدار میں آنے کے بعد، ایران نے امریکا کے ساتھ تمام سفارتی تعلقات منقطع کر دیے اور اس کے سفارتکاروں کو یرغمال بنا لیا۔

اس کے بعد امریکا نے ایران پر سخت اقتصادی پابندیاں عائد کیں اور ایران کی حکومت کو دہشت گردی کی معاونت کرنے والا ریاستی حامی قرار دیا۔

1980-88: ایران-عراق جنگ اور امریکی مداخلت

1980 کی دہائی میں عراق کی ایران پر حملے کے بعد امریکا نے عراق کی حمایت کی، جو ایران کے خلاف تھا۔ ایران-عراق جنگ نے دونوں ممالک کے درمیان دشمنی کو مزید گہرا کیا۔

اس جنگ کے دوران امریکا نے عراق کی حمایت کی، اور دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا۔

2001: ایران کو “ایکسس آف ایول” قرار دینا

9/11 کے بعد، امریکی صدر جارج بش نے ایران کو “ایکسس آف ایول” قرار دیا اور اسے عراق اور شمالی کوریا کے ساتھ شامل کیا۔ اس کے باوجود ایران اور امریکا نے خفیہ طور پر افغانستان میں طالبان کے خلاف مشترکہ کارروائی کی تھی، لیکن دونوں ممالک کی دشمنی کی جڑیں مزید گہری ہوگئیں۔

2015: ایران جوہری معاہدہ

باراک اوباما کے دور حکومت میں امریکا نے ایران کے ساتھ ایک تاریخی جوہری معاہدہ کیا جس میں ایران نے اپنے جوہری پروگرام کو محدود کرنے پر رضامندی ظاہر کی تھی اور بدلے میں اقتصادی پابندیاں نرم کر دی گئیں۔ اس معاہدے کو جوائنٹ کمپری ہینسو پلان آف ایکشن (JCPOA) کہا گیا، لیکن اس معاہدے پر عمل درآمد کے باوجود امریکا اور ایران کے درمیان اختلافات برقرار رہے۔

2018: ٹرمپ کا جوہری معاہدے سے انخلا

ڈونلڈ ٹرمپ نے 2018 میں امریکا کو جوہری معاہدے سے یکطرفہ طور پر نکال لیا اور ایران پر دوبارہ سخت اقتصادی پابندیاں عائد کر دیں۔ ایران نے بھی اپنے وعدوں سے پیچھے ہٹتے ہوئے جوہری مواد کی افزودگی میں اضافہ کر دیا۔

2020: قاسم سلیمانی کا قتل

ٹرمپ کے دور میں ایران کے ایک اعلیٰ جنرل، قاسم سلیمانی، کو بغداد میں امریکی ڈرون حملے میں ہلاک کر دیا گیا۔ ایران نے اس پر شدید ردعمل دیا اور عراق میں امریکی مفادات کو نشانہ بنایا۔

2025: امریکا کی ایران پر فضائی حملے

اب تک ایران اور امریکا کے تعلقات میں تناؤ بڑھتا گیا ہے، اور اتوار کو امریکا نے ایران کے تین اہم جوہری مراکز پر فضائی حملے کیے ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق، یہ حملے اسرائیل کی حفاظت کو یقینی بنانے اور ایران کے جوہری پروگرام کو روکنے کے لیے کیے گئے ہیں۔ ایران نے ان حملوں کا سخت جواب دینے کی دھمکی دی ہے۔

امریکا اور ایران کے تعلقات کی تاریخ میں بہت سے اتار چڑھاؤ آ چکے ہیں، اور دونوں ممالک کے درمیان دشمنی نے مشرق وسطیٰ کی سیاست میں اہم اثرات مرتب کیے ہیں۔

اگرچہ مختلف ادوار میں دونوں ممالک نے تعاون بھی کیا، لیکن موجودہ حالات میں کشیدگی اور جنگ کے آثار مزید بڑھتے دکھائی دیتے ہیں۔

متعلقہ خبریں