قومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال 26-2025 کا بجٹ منظور کرلیا گیا۔ فنانس بل کی بھی منظوری دے دی گئی جبکہ اپوزیشن کی تمام تحاریک مسترد کردی گئیں۔
اجلاس میں فنانس بل کی شق وار منظوری دے دی گئی۔اپوزیشن کی تمام تحاریک کثرت رائے سے مسترد کردی گئیں۔
قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر ایاز صادق کی سربراہی میں ہوا۔
کسٹمزایکٹ، سیلز ٹیکس، انکم ٹیکس 2001، سیلریز اینڈ الاؤنس ایکٹ 1975 اور ٹیکس فراڈ میں ملوث تاجروں کی گرفتاری کے اختیارات کمیٹی کو دینے سے متعلق پیش کی گئیں ترامیم بھی منظورکرلی گئیں۔
اپوزیشن ارکان کا شور شرابا، احتجاج
وزیر خزانہ نے بعض قوانین میں ترمیم کی تحریک پیش کی تو اپوزیشن کی طرف شور شرابہ اوراحتجاج کیا گیا۔
ترامیم میں انکم ٹیکس آرڈیننس کے تحت 107 اداروں کو ٹیکس چھوٹ دے دی گئی۔ جن میں مختلف مخیر، طبی اور فلاحی ادارے شامل ہیں۔
قبل ازیں وفاقی کابینہ نے وزارت توانائی کےایجنڈے کی منظوری دی۔ پیٹرولیم لیوی کااختیارپیٹرولیم ڈویژن کو تفویض کرنے سمیت ترامیم کے ساتھ فائنانس بل بھی منظورکرلیاگیا۔
علاوہ ازیں پیٹرولیم لیوی کا اختیار پیٹرولیم ڈویژن کو دینے سے تیل و گیس کے شعبے میں پالیسی سازی مزید مؤثرہونے کی توقع ہے۔
واضح رہے کہ اس اقدام سے محصولات میں بہتری اور فیصلوں میں تاخیر ختم ہونے کی امید ہے۔

















