غزہ میں نسل کشی رکوانے کیلئے امریکا اور اسرائیل نے کڑی شرائط رکھ دیں۔ مجوزہ تفصیلات منظر عام پر آگئیں۔ٹرمپ اور نیتن یاہو مبینہ طور پرغزہ کے منصوبے پر متفق ہوگئے۔
امریکی صدر ٹرمپ اور نیتن یاہو نے غزہ جنگ کو2ہفتوں میں ختم کرنے پر اتفاق کیاگیا ہے۔
غزہ میں اسرائیلی حیوانیت رکوانے کےلئے امریکی صدر دنیا کے سامنے نام نہاد کوششوں کا ذکرتو کررہے ہیں۔
تاہم پس پردہ امریکا نے غزہ میں جاری نسل کشی رکوانے کےلئے کڑی شرائط رکھی ہیں۔
غزہ میں نسل کشی رکوانے کیلئے امریکا اور اسرائیل نے کڑی شرائط رکھ دیں۔ان کی تفصیلات درج زیل ہیں ۔
متحدہ عرب امارات، مصر اور2 دیگر عرب ریاستیں مشترکہ طور پر حماس کی جگہ غزہ پرحکومت کریں گی۔
تمام صیہونی یرغمالی رہا کردیے جائیں گے۔
حماس کی قیادت مغربی کنارے سے نکل جائے گی۔
صیہونی افواج مغربی کنارے میں موجود رہیں گی۔
دو ریاستی حل مشروط ہوگا۔
شام اور سعودی عرب اسرائیل کو تسلیم کر لیں گے۔
حماس کو ان کڑی شرائط کے ساتھ نسل کشی رکوانے کی پیشکش کی گئی ہے ۔ یہ شرائط مکمل طور پر اسرائیلی مفادات کے تحفظ کی کوشش ہے ۔

واضح رہے کہ اسرائیل نے غزہ میں حیوانیت کا کھیل جاری رکھا ہواہے ۔ دنیا اس حیوانی کھیل کو رکوانے کےلئے جنگ بندی کی اصطلاح استعمال کرتی ہے ۔
حالانکہ اسرائیل کا یہ حیوانی اور خونیں کھیل دراصل غزہ میں بدترین نسل کشی ہے ۔




















