بھارتی حکومت کی عالمی سطح پر جاری سفارتی ناکامیوں کا سلسلہ نہ تھم سکا، برازیل میں ہونے والے برکس (BRICS) سربراہی اجلاس میں بھی نریندر مودی سرکار کو ایک اور شدید سفارتی جھٹکا لگا۔
بھارت کی بھرپور کوشش کے باوجود اجلاس کے اعلامیے میں پاکستان کا نام شامل نہ کیا جا سکا، جسے نئی دہلی کے لیے ایک اور واضح ناکامی قرار دیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق بھارت نے پہلگام واقعے کو پاکستان سے جوڑ کر بین الاقوامی سطح پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی، مگر برکس اعلامیہ مکمل طور پر غیر جانبدار الفاظ پر مبنی رہا۔
یہ سفارتی ناکامی اس حقیقت کی غمازی کرتی ہے کہ عالمی سطح پر بھارت کا بیانیہ قابل قبول نہیں رہا۔
مزید براں اس اجلاس میں چین اور روس جیسے برکس کے اہم رکن ممالک کے سربراہان کی غیر حاضری بھی مودی سرکار کے لیے باعث شرمندگی بنی۔
مزید پڑھیں: آپریشن سندور کی ناکامی سے بوکھلاہٹ میں اضافہ، بھارتی فوج اور حکومت آمنے سامنے
چینی صدر نے 2012 کے بعد پہلی مرتبہ اس اہم اجلاس میں شرکت نہیں کی، جبکہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے بھی شرکت سے گریز کیا۔
دونوں عالمی طاقتوں کی عدم شرکت کو سفارتی ماہرین بھارت کے خلاف خاموش احتجاج قرار دے رہے ہیں، جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ چین اور روس بھارت کے پاکستان مخالف ایجنڈے کی حمایت میں نہیں۔
یہ پہلا موقع نہیں جب مودی سرکار کو عالمی فورمز پر منہ کی کھانی پڑی ہو۔ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (FATF) میں بھی بھارت پاکستان کو گرے لسٹ میں برقرار رکھنے میں ناکام رہا۔
بھارت کا شدت سے چلایا گیا پراپیگنڈا اپنی موت آپ مر گیا جب عالمی برادری نے بھارت کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے پاکستان کی پیش رفت کو سراہا۔
مزید پڑھیں: چین کی بھارت کو وارننگ؛ پاکستان تعلقات پر قیاس آرائیاں مسترد
اسی طرح کواڈ (QUAD) کے وزرائے خارجہ اجلاس کے اعلامیے میں بھی بھارت کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا۔ اگرچہ پہلگام واقعہ کی عمومی مذمت کی گئی، تاہم پاکستان کا ذکر کہیں نہ آیا، جو بھارتی کوششوں کی ناکامی کا کھلا ثبوت ہے۔
26 جون کو ہونے والے شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے اجلاس میں بھی بھارت کو زبردست سفارتی دھچکا لگا۔ بھارت کی یہ کوشش کہ پاکستان کو عالمی سطح پر بدنام کیا جائے، ایک بار پھر بے اثر رہی۔ کسی بھی رکن ملک نے بھارت کے مؤقف کی حمایت نہ کی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت کی مسلسل ناکامی اس بات کا ثبوت ہے کہ بین الاقوامی سطح پر اب یک طرفہ الزامات اور سیاسی پراپیگنڈا قابل قبول نہیں رہا۔ عالمی برادری اب ٹھوس شواہد، غیر جانبداری اور علاقائی استحکام کو ترجیح دیتی ہے، نہ کہ سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کو۔




















