Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

روسی فوج میں بدعنوانی کا بھونچال، سابق ڈپٹی چیف کو 17 سال کی قید

روسی فوج کے جنرل اسٹاف کے سابق ڈپٹی چیف کرنل جنرل خلیل ارسلانوف کو منگل کو ایک ارب 60 کروڑ روبل (تقریباً 12.7 ملین امریکی ڈالر) کے دفاعی معاہدوں میں خرد برد اور فراڈ کے کیس میں 17 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی نے روسی خبر رساں ایجنسی کے حوالے سے خبر دی ہے کہ ایک خفیہ فوجی عدالت نے خلیل ارسلانوف اور دیگر ملزمان کو مل کر روسی فوج کو خدمات فراہم کرنے والی ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی “وونٹیلیکوم” کے ساتھ کیے گئے معاہدوں میں اربوں روبل کی چوری کرنے کا مجرم قرار دیا ہے۔

 اس کے علاوہ، ارسلانوف کو ایک فوجی ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی کے سربراہ سے 12 ملین روبل رشوت لینے کا بھی قصوروار پایا گیا ہے۔

ملزمان میں کرنل پافل کوٹاخوف اور فوجی ریٹائرڈ افسر ایگور یاکوفلیف بھی شامل ہیں جنہیں سات اور چھ سال قید کی سزا دی گئی ہے۔

خلیل ارسلانوف روسی فوج کے کمیونیکیشن یونٹ کے سابق سربراہ بھی رہ چکے ہیں اور وہ 2013 سے 2020 تک فوجی جنرل اسٹاف کے ڈپٹی چیف کے طور پر خدمات انجام دیتے رہے۔ انہیں 2017 میں کرنل جنرل کا خطاب بھی ملا تھا۔

روس نے گزشتہ برس سے اپنے دفاعی اداروں میں بڑھتی ہوئی بدعنوانی کے خلاف سخت کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔

اس ماہ ہی سابق نائب وزیر دفاع تیمور ایوانوف کو بدعنوانی کے الزامات پر 13 سال قید کی سزا سنائی گئی، جو کہ ان تمام مقدمات میں سب سے سخت سزا ہے۔

متعلقہ خبریں