بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) نے آج افغانستان کے دو طالبان رہنماؤں کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ جاری کر دیے ہیں۔
ان میں طالبان کے سپریم روحانی رہنما ہیبت اللہ اخوندزادہ اور طالبان کے چیف جسٹس عبدالحکیم حقانی شامل ہیں۔ ان رہنماؤں پر خواتین اور لڑکیوں کے خلاف ظلم و ستم کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
آئی سی سی کا کہنا ہے کہ ان رہنماؤں کے خلاف یہ وارنٹ اس بناء پر جاری کیے گئے ہیں کہ ان کے خلاف معقول دلائل موجود ہیں کہ اخوندزادہ اور حقانی نے صنفی بنیادوں پر انسانیت کے خلاف جرم کیا ہے، جس میں لڑکیوں، خواتین اور طالبان کے صنفی پالیسی کے خلاف جانے والے افراد پر ظلم و ستم شامل ہیں۔
عدالت نے واضح کیا کہ یہ وارنٹ اس جرم کے حوالے سے ہیں جو طالبان کے حکومتی اقتدار میں آنے کے بعد افغانستان میں خواتین اور لڑکیوں کے حقوق پر مسلسل پابندیاں عائد کرنے کے حوالے سے کیے گئے ہیں۔
آئی سی سی کے مطابق، ان رہنماؤں کے خلاف الزامات عالمی سطح پر خواتین کے حقوق کی پامالی کی ایک سنگین مثال ہیں اور ان کے خلاف عدلیہ کے عمل کی تکمیل کے لیے کارروائی کی جائے گی۔




















