Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

ماحولیاتی تباہی کی اصل شروعات کب ہوئیں؟ سائنسدانوں کا چونکا دینے والا انکشاف

 19 ویں صدی میں جب دنیا ابھی صنعتی دور کے ابتدائی مرحلے میں تھی، جب پٹرول سے چلنے والی گاڑیوں کا وجود تک نہیں تھا، تب ہی آسمان پر ایک خاموش، مگر خطرناک تبدیلی کا آغاز ہو چکا تھا۔

ہماری فضا نے انسانی سرگرمیوں کے باعث گرمی کے پہلے نشان 1885 میں ہی ریکارڈ کر لیے تھے اور ہم نے ان کا نوٹس نہیں لیا۔

Scientists fear Earth may have gone past the point of no return with  climate change | Daily Mail Online

بین سینٹر کی سربراہی میں ووڈز ہول اوشیانوگرافک انسٹیٹیوشن کے ماہرین نے جدید مشاہدات، انتہائی حساس موسمیاتی ماڈلز اور فزکس کے مسلمہ قوانین کو استعمال کرتے ہوئے یہ ہولناک انکشاف کیا ہے کہ اگر آج کی سائنسی ٹیکنالوجی تب موجود ہوتی، تو ہم 1885 میں ہی زمین کے ماحولیاتی نظام میں انسانی مداخلت کا پتہ لگا چکے ہوتے۔

تحقیق کے مطابق، زمین کی فضا کی اوپری تہہ اسٹریٹوسفئیر جو عام طور پر درجہ حرارت میں مستحکم رہتی ہے، وہاں غیر معمولی ٹھنڈک ریکارڈ کی گئی۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ اس سے نیچے کی فضا میں گرین ہاؤس گیسز نے حرارت کو قید کر لیا تھا۔

Today's Headlines: Carbon emissions are responsible for nearly 40% of  West's burned forest area - Los Angeles Times

یہ تضاد نیچے گرم ہوتی ہوئی ٹروپوسفئیر اور اوپر ٹھنڈا ہوتا ہوا اسٹریٹوسفئیر  صرف اور صرف انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہوتا ہے۔ نہ آتش فشاں اور نہ ہی سورج کی شعاعیں ایسا اثر پیدا کر سکتی ہیں۔

پروفیسر سوسن سولومن کے مطابق یہ انکشاف زمین کے ماحولیاتی بگاڑ کی ٹائم لائن کو ازسرِنو لکھنے پر مجبور کرتا ہے۔ ہم سمجھتے تھے کہ انسان کا اثر زمین کی سطح پر دکھائی دیتا ہے، مگر سچ تو یہ ہے کہ فضا کے بلند ترین طبقات نے سب سے پہلے چیخ کر خبردار کیا تھا اور ہم نے سنا ہی نہیں۔

Timeline: Major Environmental Disasters

کلائمیٹولوجسٹ اینڈریا اسٹینر نے خبردار کیا ہے کہ اگر ہم نے فضا کی ان بالائی تہوں کو مسلسل مانیٹر نہ کیا تو ہم ماحولیاتی تباہی کے اندھے کنویں میں مزید گہرائی تک گرتے جائیں گے۔

لیکن اس تحقیق کے سامنے آتے ہی ایک اور خوفناک حقیقت نے سر اٹھایا ہے NASA اور NOAA جیسی امریکی ایجنسیوں کی جانب سے بجٹ کٹوتیوں کے باعث ان خلائی مانیٹرنگ مشنز کو بند کیا جا رہا ہے۔ یہ ہماری آنکھیں بند کرنے کے مترادف ہے، جب کہ طوفان پہلے ہی سر پر کھڑا ہے۔

بین سینٹر انتباہ کرتے ہیں کہ ہم اگر فضا کی نبض نہیں ناپیں گے، تو زمین کے بخار کا اندازہ کیسے لگائیں گے؟ فضا کو دیکھنا، خود کو بچانا ہے۔

متعلقہ خبریں