Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

اقوام متحدہ نے غزہ میں قحط کا باضابطہ اعلان کر دیا

اقوام متحدہ نے غزہ میں قحط کا باضابطہ اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ نصف ملین سے زائد فلسطینی انتہائی قحط کی حالت میں ہیں، جس میں بھوک، غربت اور موت شامل ہیں۔

غزہ کی وزارت صحت کے مطابق، گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران دو فلسطینی بھوک کے باعث جاں بحق ہو گئے ہیں، جبکہ اسرائیلی حملوں میں 71 افراد کی شہادت بھی واقع ہوئی۔

Palestine | Palestine | Today's latest from Al Jazeera

طبی ذرائع نے الجزیرہ کو بتایا غزہ شہر میں شدید بمباری کی وجہ سے آج صبح تک 52 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں سے36 افراد غزہ شہر میں شہید ہوئے ہیں، جہاں بمباری سب سے زیادہ ہو رہی ہے۔

مزید پڑھیں: اسرائیلی حملوں میں شدت، غزہ میں بھوک سے مزید دو فلسطینی شہید

ایمرجنسی فزیشن ڈاکٹر جیمز اسمتھ، جو غزہ میں کام کر چکے ہیں، نے الجزیرہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ غزہ کے شمالی علاقے میں قحط کا اعلان ایک ایسا واقعہ ہے جو مکمل طور پر متوقع تھا۔

In Pictures: Starvation in Gaza (Viewer Discretion Advised) :  r/Israel_Palestine

ان کا کہنا تھا کہ یہ صورتحال اسرائیلی قبضے کے ذریعے پیدا کی گئی ہے اور یہ اسرائیل کی فوجی حکمت عملی اور غزہ میں نسل کشی کی حکمت عملی کا مرکزی حصہ ہے۔

مزید پڑھیں: غزہ پر اسرائیلی حملے تیز، فلسطینی ایک بار پھر نقل مکانی پر مجبور، اقوام متحدہ نے قحط کی تنبیہ کردی

انہوں نے کہا کہ جب بھوک کا آغاز ہوتا ہے تو لوگ سب سے زیادہ اذیت دہ اور بے عزت طریقے سے اذیت کا شکار ہوتے ہیں اور جب تک ضروری غذائی اور طبی امداد فراہم نہ کی جائے، لوگ آخرکار غذائیت کی کمی اور متعدی بیماریوں کے باعث جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔

In Gaza, mounting evidence of famine and widespread starvation | UN News

اوکفیم نے غزہ میں قحط کے اعلان کو اس بات کی تصدیق قرار دیا ہے جو چیریٹی اور اس کے پارٹنرز نے کئی مہینوں سے مشاہدہ کیا ہے۔

مزید پڑھیں: غزہ سٹی پر اسرائیلی قبضے کا منصوبہ تیار، 2 ہفتوں میں جبری انخلا اور فوجی یلغار کا خدشہ

 اوکفیم نے فوری طور پر امداد فراہم کرنے کی اپیل کی ہے اور کہا ہے کہ غزہ میں قحط اسرائیل کی غذائی اور ضروری امداد پر مکمل پابندی کا نتیجہ ہے۔

Famine is tightening its grip on Gaza - Workers Revolutionary Party

اوکفیم کی پالیسی لیڈ ہیلن اسٹاوسکی نے کہا کہ غزہ میں قحط اسرائیل کی قریب مکمل ناکہ بندی، اسرائیل کے تشویشناک تشدد، اور جنگ کے ہتھیار کے طور پر بھوک کے استعمال کے نتیجے میں پیدا ہوا ہے۔

مزید پڑھیں: اسرائیلی آرمی چیف نے غزہ سٹی پر قبضے کے منصوبے کی منظوری دے دی

انہوں نے مزید کہا کہ اوکفیم کے پاس 3.3 ملین ڈالر کی امداد ذخیرہ ہے، جس میں ہائی کیلوریز والے کھانے کے پیکیجز شامل ہیں، جو غزہ کے باہر گوداموں میں موجود ہیں، لیکن اسرائیلی حکام نے اسے مسترد کر دیا ہے، حالانکہ اس وقت ان اشیاء کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔

Famine confirmed in Gaza, says global hunger monitor

اسرائیل کے حملوں میں اب تک 62,263 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں اور 157,365 زخمی ہوئے ہیں، جبکہ 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر حملوں میں 1,139 اسرائیلی ہلاک اور 200 سے زائد افراد اغوا ہوئے ہیں۔

متعلقہ خبریں