Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

کیا فاسٹ فوڈ آپ کی توجہ کم کررہا ہے؟ حیران کن تحقیق سامنے آگئی

زیادہ پراسیس شدہ خوراک دماغی صحت اور توجہ کی صلاحیت کو متاثر کرسکتی ہے۔

ایک نئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ زیادہ پراسیس شدہ خوراک دماغی صحت اور توجہ کی صلاحیت کو متاثر کرسکتی ہے جب کہ اس کے ساتھ یادداشت اور ڈیمنشیا کے خطرے پر بھی اثرات دیکھے گئے ہیں۔

آسٹریلیا میں کی گئی تحقیق میں 40 سے 70 سال کی عمر کے 2 ہزار سے زائد صحت مند افراد کے غذائی معمولات اور ذہنی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا۔

ماہرین نے شرکاء کی غذا، جسمانی سرگرمی، صحت کی صورتحال اور دیگر عوامل کا تفصیلی ڈیٹا جمع کیا اور ان کی ذہنی کارکردگی کو مختلف ٹیسٹوں کے ذریعے پرکھا۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ جن افراد کی خوراک میں پراسیس شدہ غذاؤں کا حصہ زیادہ تھا، ان کی توجہ اور ذہنی رفتار نسبتاً کم پائی گئی۔

تحقیق کے مطابق خوراک میں صرف 10 فیصد اضافی پراسیس شدہ غذا شامل کرنے سے توجہ کی صلاحیت میں واضح کمی دیکھی گئی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پراسیس شدہ خوراک میں اضافے سے ڈیمنشیا کے خطرے کے اسکور میں بھی اضافہ دیکھا گیا تاہم یادداشت کے ٹیسٹ پر واضح فرق سامنے نہیں آیا۔

محققین کے مطابق یہ غذا عام طور پر فاسٹ فوڈ، مشروبات، چپس، تیار شدہ کھانے اور میٹھی اشیاء پر مشتمل ہوتی ہے۔

ماہرین نے بتایا کہ پراسیس شدہ خوراک کے زیادہ استعمال کا تعلق کم تعلیمی معیار، موٹاپے اور غیر صحت مند طرزِ زندگی سے بھی دیکھا گیا ہے۔

تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ چاہے کوئی صحت مند غذا جیسے متوازن خوراک اپنائے لیکن اگر ساتھ پراسیس شدہ غذا بھی شامل ہو تو دماغی صحت پر منفی اثر برقرار رہ سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق ممکن ہے کہ اصل مسئلہ صرف غذائیت کی کمی نہیں بلکہ خوراک کے صنعتی عمل سے گزرنے کے دوران پیدا ہونے والے اجزاء بھی ہوں۔

ان کا کہنا ہے کہ پراسیس شدہ خوراک جسم میں شوگر، بلڈ پریشر اور دیگر بیماریوں کا باعث بن سکتی ہے جو بالواسطہ طور پر دماغی کارکردگی کو متاثر کرتی ہیں۔

ماہرین نے مزید تحقیق کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ بہتر ذہنی صحت کے لیے قدرتی اور تازہ خوراک کا استعمال زیادہ فائدہ مند ہوسکتا ہے۔