Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

100 دن تک رہنے والی خطرناک کالی کھانسی، ماہرین نے خبردار کردیا

یہ بیماری سانس کی نالی کو متاثر کرتی ہے اور چھینک یا کھانسی کے ذریعے دوسروں تک منتقل ہوتی ہے۔

دنیا بھر میں تیزی سے پھیلنے والی اور ایک خطرناک بیکٹیریا سے ہونے والی بیماری ’’کالی کھانسی‘‘ ایک بار پھر تشویش کا باعث بن گئی ہے۔

ماہرین کے مطابق ’’کالی کھانسی‘‘ کی بیماری انتہائی متعدی ہے اور خاص طور پر بالغ افراد میں اکثر دیر سے تشخیص ہوتی ہے جس کے باعث مریض کئی ہفتوں بلکہ مہینوں تک شدید کھانسی میں مبتلا رہتے ہیں۔

بیماری کے نقصانات

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بیماری سانس کی نالی کو متاثر کرتی ہے اور چھینک یا کھانسی کے ذریعے دوسروں تک منتقل ہوتی ہے۔ ابتدا میں اس کی علامات عام نزلہ زکام جیسی ہوتی ہیں جن میں ناک بہنا، ہلکا بخار اور معمولی کھانسی شامل ہیں تاہم چند دن بعد یہی کھانسی شدت اختیار کرلیتی ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق دوسرے مرحلے میں مریض کو بار بار شدید کھانسی کے دورے پڑتے ہیں جو بعض اوقات اتنے خطرناک ہوتے ہیں کہ مریض کو سانس لینے میں دشواری، قے، شدید تھکن اور نیند کی کمی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

بچوں میں کھانسی کے بعد مخصوص آواز سنائی دیتی ہے لیکن بالغ افراد میں یہ علامت اکثر موجود نہیں ہوتی جس سے بیماری کی بروقت تشخیص مشکل ہوجاتی ہے۔

ماہرین نے خبردار کردیا

تحقیق کے مطابق بعض مریضوں میں یہ کھانسی اوسطاً 54 دن تک برقرار رہتی ہے جب کہ کئی کیسز میں یہ سو دن تک بھی جاری رہ سکتی ہے، اسی وجہ سے اسے ’’100 دن والی کھانسی‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ بروقت علاج نہ ہونے کی صورت میں یہ بیماری نمونیا، پسلیوں کے فریکچر، پھیپھڑوں کو نقصان، مسلسل کمزوری اور دیگر پیچیدگیوں کا سبب بن سکتی ہے۔

بڑی عمر کے افراد، دمے کے مریض، سگریٹ نوشی کرنے والے افراد اور کمزور مدافعتی نظام رکھنے والے شہری زیادہ خطرے میں ہوتے ہیں۔

بیماری سے بچاؤ

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اگر اینٹی بایوٹک ادویات ابتدائی مرحلے میں استعمال کی جائیں تو بیماری کی شدت کم کی جاسکتی ہے اور وائرس نما جراثیم کے پھیلاؤ کو روکا جاسکتا ہے۔

ماہرین نے والدین اور شہریوں پر زور دیا ہے کہ اگر کسی شخص کو کئی ہفتوں تک مسلسل کھانسی رہے، رات کے وقت کھانسی بڑھ جائے یا کھانسی کے بعد قے آنے لگے تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کیا جائے۔ خصوصاً اگر گھر میں بچے، بزرگ یا حاملہ خواتین موجود ہوں۔