امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیدائشی شہریت (برتھ رائٹ سٹیزن شپ) سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ پیدائشی شہریت کا خاتمہ آئینی ترمیم کے بغیرقانون سازی سےممکن ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ پر جاری بیان میں کہا کہ سپریم کورٹ نے برتھ رائٹ سٹیزن شپ کو برقرار رکھا جو ان کے بقول ایک نقصان دہ فیصلہ ہے۔ کانگریس سادہ قانون سازی کے ذریعے اس معاملے کو تبدیل کر سکتی ہے اور اس کے لیے کسی طویل یا پیچیدہ آئینی ترمیم کی ضرورت نہیں۔
صدر ٹرمپ نے کانگریس پر زور دیا کہ وہ پیدائشی شہریت کے قانون میں تبدیلی کے لیے فوری قانون سازی کا آغاز کرے اور اس سلسلے میں اپنی غیر مشروط حمایت کا بھی اعلان کیا۔
امریکی سپریم کورٹ نے صدر ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے پیدائشی شہریت کو محدود کرنے کی کوشش مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ امریکی آئین کی چودھویں ترمیم کے تحت امریکا میں پیدا ہونے والے تقریباً تمام افراد امریکی شہریت کے حقدار ہیں، خواہ ان کے والدین کی امیگریشن حیثیت کچھ بھی ہو۔
عدالت نے ٹرمپ انتظامیہ کے اس ایگزیکٹو آرڈر کو بھی غیر آئینی قرار دیا جس میں وفاقی اداروں کو ہدایت دی گئی تھی کہ ایسے بچوں کو امریکی شہریت نہ دی جائے جن کے والدین میں سے کوئی بھی امریکی شہری یا قانونی مستقل رہائشی نہ ہو۔
چیف جسٹس جان رابرٹس نے اکثریتی فیصلہ تحریر کرتے ہوئے کہا کہ امریکی آئین، عدالتی نظام اور 1898 کے تاریخی مقدمے کی روشنی میں امریکی سرزمین پر پیدا ہونے والے تقریباً تمام افراد پیدائشی طور پر امریکی شہریت کے مستحق ہیں۔
ماہرین کے مطابق سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ صدر ٹرمپ کی سخت گیر امیگریشن پالیسی کے لیے ایک اہم دھچکا تصور کیا جا رہا ہے کیونکہ پیدائشی شہریت کا خاتمہ ان کے امیگریشن ا یجنڈے کا مرکزی نکتہ تھا۔




















