ایران کے سابق سپریم لیڈر شہید آیت اللہ علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ اور آخری رسومات کے سلسلے میں تہران میں منعقد ہونے والا جلوس تقریباً 10 سے 12 گھنٹے تک جاری رہنے کا امکان ہے جس کے بعد ان کا جسدِ خاکی مزید مذہبی رسومات کے لیے مقدس شہر قم منتقل کیا جائے گا۔
ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے کے مطابق جنازہ جلوس کا آغاز تہران کی گرینڈ مصلیٰ مسجد سے ہوا جہاں گزشتہ دو روز سے عوام کی بڑی تعداد نے ان کے جسدِ خاکی کا آخری دیدار کیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جلوس تقریباً 10 کلومیٹر طویل راستے سے گزرتا ہوا مختلف اہم شاہراہوں اور چوکوں سے ہوکر مہرآباد بین الاقوامی ہوائی اڈے کے قریب پہنچے گا، اس دوران دماوند اسٹریٹ، امام حسین اسکوائر، انقلاب اسٹریٹ، آزادی اسکوائر اور شاہد لشگری ہائی وے جیسے اہم مقامات شامل ہیں۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق خصوصی گاڑی کو جلوس کے مرکزی راستے میں شامل کرنے کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں جس میں جسدِ خاکی کو منتقل کیا جائے گا۔
حکام کا کہنا ہے کہ جلوس میں لاکھوں افراد کی شرکت متوقع ہے جس کے پیش نظر تہران میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں، متعدد اہم سڑکیں بند کردی گئی ہیں جبکہ ٹریفک اور عوامی نقل و حمل کے لیے متبادل راستے بھی فراہم کیے گئے ہیں۔
جلوس کے اختتام کے بعد جسدِ خاکی کو قم منتقل کیا جائے گا جہاں مزید مذہبی رسومات ادا ہوں گی جبکہ تدفین کے لیے مشہد منتقل کیے جانے کا امکان ہے۔



















