ذہنی دباؤ صرف ایک جذباتی کیفیت نہیں بلکہ طویل عرصے تک برقرار رہنے کی صورت میں جسم کے مختلف نظاموں کو متاثر کر سکتا ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق وقتی ذہنی دباؤ بعض حالات میں انسان کو متحرک رکھنے میں مدد دے سکتا ہے تاہم مسلسل اور طویل مدتی دباؤ صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق مسلسل ذہنی دباؤ کے دوران جسم میں ایسے ہارمونز خارج ہوتے ہیں جو مدافعتی نظام، دل، نظامِ ہاضمہ، نیند اور ذہنی صحت پر اثر انداز ہوسکتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں مختلف بیماریوں کا خطرہ بڑھنے کے ساتھ جسم کی صحت یابی کا عمل بھی سست ہوسکتا ہے۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ طویل مدتی ذہنی دباؤ کے باعث بلند فشارِ خون، دل کے امراض، معدے کی خرابی، تیزابیت، اپھارہ، بھوک میں تبدیلی اور نیند کے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔
اس کے علاوہ بار بار سر درد، مسلسل تھکن، پٹھوں میں کھچاؤ، توجہ مرکوز کرنے میں دشواری اور جذباتی تھکن بھی ذہنی دباؤ کی عام علامات میں شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ذہنی دباؤ کم کرنے کے 10 فوری اور آسان طریقے
تحقیقی رپورٹس کے مطابق شدید یا مسلسل دباؤ مدافعتی نظام کی کارکردگی کو متاثر کرسکتا ہے، جس کے باعث جسم جراثیم اور وائرس کے خلاف مؤثر دفاع کرنے میں مشکلات کا سامنا کرسکتا ہے۔ مسلسل دباؤ جسم میں سوزش بڑھانے کا سبب بھی بن سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق مریضوں یا بچوں کی مسلسل نگہداشت کرنے والے افراد، دائمی بیماریوں میں مبتلا افراد، ذہنی مسائل کا سامنا کرنے والے افراد اور شفٹوں میں کام کرنے والے ملازمین طویل مدتی ذہنی دباؤ کے زیادہ خطرے سے دوچار ہوسکتے ہیں۔
ماہرین نے ذہنی دباؤ کم کرنے کے لیے باقاعدہ ورزش، معیاری نیند، متوازن غذا، مراقبہ اور اہلِ خانہ و دوستوں کی معاونت کو مفید قرار دیا ہے۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بے چینی، شدید تھکن، نیند میں مسلسل خرابی یا دیگر جسمانی علامات برقرار رہیں تو ماہرِ صحت سے مشورہ کرنا چاہیے۔
ماہرین کے مطابق ذہنی دباؤ کو بروقت قابو میں رکھنا مجموعی صحت کے لیے اہم ہے، جبکہ اسے مسلسل نظر انداز کرنے سے جسمانی اور ذہنی صحت پر منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔




















