Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

صوبوں کی تقسیم اور پی ٹی آئی احتجاج؛ رانا ثناء اللہ نے اہم انکشافات کردیے

‘صوبوں کی تقسیم کے معاملے پر پیش رفت میں 6 سے 8 ماہ لگ سکتے ہیں’

مسلم لیگ (ن) پنجاب کے صدر رانا ثناء اللہ نے صوبوں کی تقسیم اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے احتجاج سے متعلق اہم انکشافات کردیے ہیں۔

وفاقی وزیر رانا ثناء اللہ نے سینئر صحافیوں سے ملاقات کے دوران صوبوں کی تقسیم سمیت اہم سیاسی امور پر گفتگو کی۔

رانا ثناء اللہ نے کہا کہ کہ نئے صوبوں کی تقسیم کے مبینہ منصوبہ سازوں نے مسلم لیگ ن سے بات نہیں کی ہوگی، یہ ممکن نہیں اگر مسلم لیگ ن نے صوبوں کی تقسیم کا کوئی منصوبہ شروع نہیں کیا تو اس سے پارٹی کی پالیسی واضح ہوجانی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ اگر صوبوں کی تقسیم کا معاملہ پارلیمنٹ میں آیا تو ہر رکن اپنی رائے دے گا جبکہ اس حوالے سے پارلیمانی یا قائمہ کمیٹی بھی بنائی جاسکتی ہے۔ صوبوں کی تقسیم کے معاملے پر پیش رفت میں 6 سے 8 ماہ لگ سکتے ہیں۔

رانا ثناء اللہ نے کہا کہ یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ صوبوں کی تقسیم کے نتیجے میں نئے انتظامی یونٹس بنیں گے یا بلدیاتی انتخابات کا معاملہ سامنے آئے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں مسلم لیگ ن کی مقامی قیادت بہاولپور کو جنوبی پنجاب میں شامل کرنے کے حق میں نہیں بلکہ بہاولپور کے الگ صوبے یا لاہور کے ساتھ رہنے کی بات کی جارہی ہے۔ صوبوں کی تقسیم کے حق میں مسلم لیگ ن کی جانب سے تاحال کوئی بڑی بات سامنے نہیں آئی۔

انہوں نے کہا کہ اقتصادی فورم ایسا پلیٹ فارم نہیں جہاں صوبوں کی تقسیم جیسے منصوبے شروع کیے جائیں۔ پیپلز پارٹی کو صوبوں کے معاملے پر سیاسی فائدہ ہوا اور کارکن جذباتی طور پر پارٹی کے ساتھ کھڑے ہوگئے۔

کینال منصوبے کے حوالے سے رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ صدر آصف علی زرداری نے منصوبے کی حمایت کی تاہم احتجاج کے نتیجے میں اسے رکوا دیا گیا۔

بانی پی ٹی آئی سے پس پردہ رابطوں کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ممکن ہے ان کے ساتھ بات چیت ہورہی ہو تاہم پس پردہ مذاکرات کی ایک قیمت ہے اور جو بھی یہ راستہ اختیار کرے گا اسے اس کی قیمت چکانا ہوگی۔

رانا ثناء اللہ نے الزام عائد کیا کہ تحریک انصاف مسلح ہوکر اسلام آباد آنے کی تیاری کررہی ہے۔ فتنہ الخوارج کی جانب سے تحریک انصاف کے احتجاج کو نشانہ بنانے کی اطلاعات بھی ہیں جبکہ ایسا کرکے حکومت اور عوام کے درمیان مزید دوری پیدا کرنے کی کوشش کی جاسکتی ہے۔ تحریک انصاف کا احتجاج ’’ٹکے ٹوکری‘‘ ہوجائے گا۔

وفاقی وزیر داخلہ کے حوالے سے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ اگر وہ کابینہ یا سینیٹ میں کوئی بات کریں گے تو ان سے جواب لے لیا جائے گا، وفاقی وزیر شیخ قیصر ان کے سامنے تقریباً ہر دوسرے روز وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کرتے ہیں اس لیے شیخ قیصر کے اعتراضات یا وزیراعظم سے ملاقات نہ ہونے کی بات ان کی سمجھ سے بالاتر ہے۔

رانا ثناء اللہ نے مزید کہا کہ کچھ چیزیں غور و خوض کے لیے ہوتی ہیں، ہر چیز کو منظر عام پر نہیں لانا چاہیے۔

متعلقہ خبریں