کراچی: رواں سال کے ابتدائی آٹھ ماہ کے دوران شہر قائد میں مختلف نوعیت کے جرائم کی 46 ہزار سے زائد وارداتیں رپورٹ ہوئیں جب کہ اس دوران 348 افراد کو قتل اور ہزاروں شہریوں کو قیمتی اشیا سے محروم کردیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق جنوری سے اگست تک شہر میں قتل، اغوا، ڈکیتی، چوری، گاڑیوں اور موبائل فون چھیننے سمیت مختلف جرائم کے واقعات سامنے آئے تاہم پولیس حکام جرائم میں کمی کے دعوے کرتے رہے۔
رواں سال کے آٹھ ماہ کے دوران کراچی میں مختلف واقعات میں 348 افراد کو قتل کیا گیا جن میں ڈکیتی مزاحمت پر قتل ہونے والے 55 شہری بھی شامل ہیں۔
اسی عرصے میں جھگڑوں اور ذاتی معاملات سمیت مختلف وجوہات کی بنا پر اغوا کے 1788 واقعات رپورٹ ہوئے جب کہ اغوا برائے تاوان کے 18 مقدمات بھی سامنے آئے۔
اعداد و شمار کے مطابق شہر میں بچوں کے اغوا کے 224 سے زائد واقعات رپورٹ ہوئے۔ شہریوں کے لیے ایک اور بڑا مسئلہ ڈکیتی اور چوری کی وارداتیں رہیں۔
آٹھ ماہ کے دوران ہائی وے، ڈکیتی، گھروں اور دکانوں میں وارداتوں سمیت لوٹ مار اور چوری کے 2530 سے زائد واقعات رپورٹ ہوئے۔
رواں سال کے پہلے آٹھ ماہ میں کراچی کے مختلف علاقوں سے 898 کاریں چھینی یا چوری کرلی گئیں جب کہ 12 ہزار سے زائد موٹرسائیکلیں بھی شہریوں سے چھین لی گئیں یا چوری ہوگئیں۔
اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ شہر قائد میں اس دوران 12 ہزار 846 قیمتی موبائل فون شہریوں سے چھینے گئے جب کہ دیگر 194 گاڑیاں بھی چھیننے یا چوری ہونے کی وارداتوں کا شکار ہوئیں۔
کراچی میں آٹھ ماہ کے دوران چوری کی دیگر 1485 وارداتیں بھی رپورٹ ہوئیں۔ اس کے علاوہ غیر قانونی اسلحے سے متعلق 3394 سے زائد مقدمات جب کہ جوئے اور سٹے کے 246 سے زائد کیسز سامنے آئے۔
دوسری جانب پولیس کے اعلیٰ حکام کی جانب سے کراچی میں جرائم کی شرح میں کمی کے دعوے کیے جاتے رہے ہیں تاہم رپورٹ ہونے والے اعداد و شمار شہریوں کو درپیش جرائم کی سنگینی کو ظاہر کرتے ہیں۔
















