امریکی ایوان نمائندگان نے روس کے خلاف پابندیوں سے متعلق اہم بل 159 کے مقابلے میں 262 ووٹوں سے منظور کرلیا جس کے تحت ٹرمپ انتظامیہ کو روس سے تیل اور گیس خریدنے والے ٹاپ 5ممالک پر پابندیوں کا اختیار مل گیا ہے۔
بل کی منظوری کے بعد ٹرمپ انتظامیہ کو روس سے توانائی کی مصنوعات خریدنے والے پانچ بڑے ممالک کے خلاف پابندیاں عائد کرنے اور اضافی محصولات نافذ کرنے کا اختیار حاصل ہوگا۔ اس اقدام کے نتیجے میں بھارت کو بھی 100 فیصد تک امریکی ٹیرف کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
کانگریس کے دونوں ایوانوں سے منظور ہونے والے بل کے تحت صدر ڈونلڈ ٹرمپ روس سے تیل اور گیس خریدنے والے ممالک پر محصولات عائد کرسکیں گے۔
رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ کی ریپبلیکن پارٹی نے غیر متوقع طور پر اہم ترین بل کو رواں ہفتے ووٹ کے لیے پیش کیا۔ اس سے صرف ایک ہفتے قبل تک رشیا سینکشنز بل کا ڈیموکریٹس اور ریپبلیکنس کے اختلافات کے باعث منظور ہونا مشکل دکھائی دے رہا تھا۔
کانگریس سے منظوری کے بعد بل کی حتمی منظوری امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ دیں گے۔
بل میں امریکی یورپی اتحادی ممالک کے لیے استثنیٰ کی شق بھی شامل ہے جس کے تحت انہیں روس سے تیل کی خریداری جاری رکھنے کی صورت میں بعض پابندیوں سے استثنیٰ دیا جا سکے گا۔



















