Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

چین کی نئی اے آئی چپ مستقبل بدل سکتی ہے

چین صرف اے آئی سافٹ ویئر ہی نہیں بلکہ روبوٹکس اور صنعتی ٹیکنالوجی میں بھی تیزی سے آگے بڑھنے کی کوشش کر رہا ہے

امریکا اور چین کے درمیان مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کی ٹیکنالوجی میں مقابلہ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ اب چین کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنی ہواوے  نے ایک ایسی نئی اے آئی چِپ بنانے کا اعلان کیا ہے جو اس مقابلے میں اہم تبدیلی لا سکتی ہے۔

ہواوے کا کہنا ہے کہ اس کی نئی اسینڈ  960ڈی ٹی چِپ پہلے 2027 کی تیسری سہ ماہی میں آنے والی تھی لیکن اب اسے 2027 کی پہلی سہ ماہی یعنی جنوری سے مارچ کے دوران جاری کرنے کا منصوبہ ہے۔

یہ چِپ اتنی اہم کیوں ہے؟

اے آئی کے لیے بہت طاقتور کمپیوٹر چِپس کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس وقت دنیا میں Nvidia کی جدید چِپس اے آئی کے لیے بڑے پیمانے پر استعمال جاتی ہیں۔

امریکا نے گزشتہ برسوں میں چین کو جدید امریکی اے آئی چِپس تک رسائی محدود کردی تھی اس عمل کا مقصد چین کی جدید اے آئی اور فوجی ٹیکنالوجی کی ترقی کو محدود کرنا بھی بتایا گیا ہے۔

اس پابندی کی وجہ سے چین کو جدید اے آئی سسٹمز بنانے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، لیکن اب چین نے اپنی چِپس اور اے آئی ٹیکنالوجی تیار کرنے پر زیادہ توجہ دینا شروع کر دی۔

ڈیپ سیک نے سب کو حیران کر دیا

جنوری 2025 میں چینی کمپنی ڈیپ سیک نامی اے آئی ماڈل  نے دنیا بھر میں توجہ حاصل کی۔ اس سب سے خاص بات یہ تھی کہ ڈیپ سیک نے نسبتاً پرانی Nvidia چِپس استعمال کرتے ہوئے طاقتور اے آئی ماڈل تیار کیا۔

اس سے یہ بات سامنے آئی کہ جدید اے آئی بنانے کے لیے صرف مہنگی اور جدید ترین چِپس ہی ضروری نہیں، بلکہ بہتر سافٹ ویئر اور الگورتھم بھی بہت اہم ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: چین نے توانائی کی بچت کرنے والی وژن چپ تیار کرلی

ہواوے کا نیا منصوبہ

ہواوے کے قائم مقام چیئرمین ڈیوڈ وانگ نے بتایا کہ کمپنی اپنی اسینڈ چِپس کی نئی جنریشن تقریباً ہر سال متعارف کرانے کا ارادہ رکھتی ہے۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ نئی جنریشن کی چِپس میں کمپیوٹنگ طاقت کے ساتھ ساتھ میموری، ڈیٹا منتقل کرنے کی رفتار اور دوسرے اہم فیچرز میں بھی بہتری آئے گی۔

چین  الگ اے آئی راہ ہموار کرنے میں مصروف 

امریکا میں اوپن اے آئی اور اینتھروپک جیسی کمپنیاں بہت طاقتور کمپیوٹنگ سسٹمز پر توجہ دے رہی ہیں جبکہ دوسری طرف چین کو جدید امریکی چِپس تک محدود رسائی کی وجہ سے اے آئی ٹیکنالوجی کو مختلف انداز میں تیار کرنا پڑ رہا ہے۔

اسی وجہ سے چین میں اوپن سورس اے آئی اور ایسے سافٹ ویئر کی ترقی پر بھی زیادہ توجہ دی گئی ہے جسے بہت سے انجینئرز استعمال اور بہتر بنا سکیں۔

لیکن یہاں ایک مسئلہ اب بھی موجود ہے: بہترین سافٹ ویئر بھی طاقتور ہارڈویئر کے بغیر اپنی پوری صلاحیت استعمال نہیں کر سکتا۔

کیا ہواوے Nvidia کا مقابلہ کر سکے گا؟

یہ ابھی واضح نہیں۔ ہواوے کی نئی اسینڈ  960ڈی ٹی چِپ اگر Nvidia کی جدید بلیک ویل چِپس کے قریب کارکردگی دینے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو چین کے لیے یہ ایک بڑی پیش رفت ہو سکتی ہے۔لیکن اس کا اصل موازنہ اس وقت ہی ممکن ہوگا جب نئی چِپ مارکیٹ میں آئے گی اور حقیقی استعمال میں اس کی کارکردگی سامنے آئے گی۔

اے آئی کی یہ دوڑ کہاں جا رہی ہے؟

ہواوے کے ڈیوڈ وانگ کا کہنا ہے کہ اے آئی شاید انسانی تاریخ کی سب سے بڑی ٹیکنالوجی تبدیلیوں میں سے ایک بن سکتی ہے، لیکن اس کا فائدہ پوری دنیا کو اسی وقت ہوگا جب ممالک اور کمپنیاں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں ان کے مطابق کوئی ایک کمپنی اکیلے پوری دنیا کو ذہین ٹیکنالوجی فراہم نہیں کر سکتی۔

دوسری جانب چین میں روبوٹس بنانے والی روبوٹس کی ایک جدید “اسمارٹ فیکٹری” بھی شروع ہونے کی خبر سامنے آئی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ چین صرف اے آئی سافٹ ویئر ہی نہیں بلکہ روبوٹکس اور صنعتی ٹیکنالوجی میں بھی تیزی سے آگے بڑھنے کی کوشش کر رہا ہے۔

متعلقہ خبریں