Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

امریکا فلسطینی وفد پر عائد سفری پابندیاں ختم کرے، فلسطینی صدر محمود عباس

محمود عباس کا خطاب امریکی ویزا نہ ملنے کے باعث پہلے سے ریکارڈ شدہ ویڈیو کے ذریعے نشر کیا گیا

فلسطینی صدر محمود عباس نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے فلسطینی وفد کو امریکا کی جانب سے عائد پابندیوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا اور واشنگٹن سے مطالبہ کیا کہ فلسطینی حکام پر عائد سفری پابندیاں ختم کی جائیں۔ محمود عباس کا خطاب امریکی ویزا نہ ملنے کے باعث پہلے سے ریکارڈ شدہ ویڈیو کے ذریعے نشر کیا گیا۔

محمود عباس نے کہا کہ فلسطین کو جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت سے روکنا ناقابل قبول ہے، جبکہ فلسطینی وفد کو روکنا میزبان ملک کی حیثیت سے امریکا کی ذمہ داریوں سے بھی متصادم ہے۔

فلسطینی صدر نے امریکا پر زور دیا کہ وہ فلسطینی وفد پر عائد پابندیاں ختم کرے اور فلسطینی قیادت کو اقوام متحدہ کی سرگرمیوں میں آزادانہ شرکت کا موقع فراہم کرے۔ امریکا نے محمود عباس اور دیگر اعلیٰ فلسطینی حکام کو مسلسل دوسرے سال نیویارک جانے کے لیے ویزے دینے سے انکار کیا ہے، تاہم اقوام متحدہ نے جنرل اسمبلی میں محمود عباس کو ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کی اجازت دی۔

غزہ کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے محمود عباس نے کہا کہ فلسطینی عوام کو قتل عام، تباہی اور بھوک کا سامنا ہے، جبکہ غزہ میں فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کی کوششیں بھی جاری ہیں۔ انہوں نے غزہ میں جاری جنگ کو نسل کشی قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے فلسطینی عوام کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا۔

محمود عباس نے کہا کہ فلسطینی عوام کا قتل عام روکا جائے اور غزہ میں پیدا ہونے والے انسانی بحران کا خاتمہ کیا جائے۔ ان کے مطابق فلسطینیوں کو جبری طور پر ان کی سرزمین سے بے دخل کرنے کی کوششیں قابل قبول نہیں۔

فلسطینی صدر نے امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے امن منصوبے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ فلسطین نے اس منصوبے کو مثبت انداز میں دیکھا، تاہم اب تک اس حوالے سے خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہوسکی۔

محمود عباس نے دو ریاستی حل کو خطے میں پائیدار امن کے لیے اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ فلسطین اور اسرائیل پر مشتمل دو ریاستی حل سب کے لیے امن یقینی بنانے کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے واشنگٹن پر زور دیا کہ وہ دو ریاستی حل کے حصول کے لیے عالمی برادری کے ساتھ مل کر کام کرے۔

انہوں نے مغربی کنارے میں اسرائیلی آباد کاروں کے تشدد کا معاملہ بھی جنرل اسمبلی کے سامنے اٹھایا اور مطالبہ کیا کہ فلسطینیوں کے خلاف آباد کاروں کے تشدد کی روک تھام یقینی بنائی جائے۔

فلسطینی صدر نے کہا کہ مغربی کنارے میں آباد کاروں کے حملوں اور تشدد کا سلسلہ فلسطینیوں کی زندگیوں، املاک اور مستقبل کے لیے سنگین مسئلہ ہے۔ فلسطینی صدر کی جانب سے اقوام متحدہ میں پیش کیے گئے مؤقف میں اسرائیلی آباد کاری کو دو ریاستی حل کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ قرار دیا گیا ہے۔

محمود عباس کا خطاب ایسے وقت میں ہوا ہے جب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا 81واں اجلاس غزہ، فلسطین اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال سمیت متعدد عالمی بحرانوں کے پس منظر میں جاری ہے۔