Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

ٹرمپ کو بڑا عدالتی جھٹکا، 3 بڑے میڈیا اداروں پر لگائی گئی وائٹ ہاؤس پابندی ختم

یہ عدالتی جنگ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب 3 نومبر کو امریکی وسط مدتی انتخابات ہونے والے ہیں

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے CNN، MS NOW اور Politico کے صحافیوں کو وائٹ ہاؤس میں داخلے سے روکنے کا فیصلہ عدالت نے عارضی طور پر روک دیا وفاقی جج ٹموتھی کیلی نے تینوں میڈیا اداروں کے صحافیوں کے پریس پاسز فوری بحال کرنے کا حکم دے دیا۔

امریکی ڈسٹرکٹ جج ٹموتھی کیلی نے حکم دیا کہ ٹرمپ انتظامیہ CNN، MS NOW اور Politico کے صحافیوں کے وائٹ ہاؤس پریس پاسز فوری واپس اور بحال کرے، جبکہ انتظامیہ کو پابندی نافذ کرنے سے 14 روز کے لیے روک دیا گیا ہے۔ جج کے مطابق پابندی کا اقدام بادی النظر میں آئین سے متصادم دکھائی دیتا ہے۔

یہ مقدمہ تینوں میڈیا اداروں کی جانب سے ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف دائر کیا گیا تھا۔ اداروں نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ وائٹ ہاؤس تک رسائی ختم کرنا امریکی آئین کی پہلی ترمیم میں دی گئی آزادیٔ اظہار اور آزاد صحافت کے تحفظات کے ساتھ ساتھ قانونی طریقہ کار کے حقوق کی بھی خلاف ورزی ہے۔

جج کیلی نے حکومتی مؤقف بھی مسترد کردیا کہ میڈیا اداروں پر پابندی قومی سلامتی کے خدشات کی بنیاد پر لگائی گئی تھی۔ ان کے مطابق ریکارڈ میں ایسا ٹھوس شواہد موجود نہیں جو یہ ثابت کریں کہ پریس پاسز منسوخ کرنے سے قومی سلامتی کو تحفظ ملے گا یا پاسز بحال کرنے سے قومی سلامتی کو خطرہ لاحق ہوگا۔

عدالتی حکم میں یہ بھی نشاندہی کی گئی کہ خود صدر ٹرمپ نے پابندی کی وجہ ان میڈیا اداروں کی رپورٹنگ میں مبینہ ’’غیر سچائی اور منفی انداز‘‘ کو قرار دیا تھا، جبکہ بعد میں محکمہ انصاف نے قومی سلامتی کو پابندی کی قانونی بنیاد کے طور پر پیش کیا۔

ٹرمپ نے 18 ستمبر کو سوشل میڈیا پر تینوں اداروں کے خلاف پابندی کا اعلان کرتے ہوئے الزام عائد کیا تھا کہ انہیں مسلسل ’’فکشن اور جھوٹ‘‘ رپورٹ نہیں کرنا چاہیے۔ اس کے بعد 19 ستمبر کو ان اداروں کے صحافیوں کو وائٹ ہاؤس میں داخلے سے روک دیا گیا اور ان کے پریس پاسز غیر فعال یا ضبط کرلیے گئے۔

تینوں میڈیا اداروں نے پیر کو واشنگٹن کی وفاقی عدالت سے رجوع کرتے ہوئے فوری طور پر پابندی ختم کرنے کی درخواست کی تھی۔ ان کا مؤقف تھا کہ انہیں پابندی سے پہلے قانونی نوٹس یا اپنے مؤقف کی وضاحت کا مؤثر موقع نہیں دیا گیا۔

بدھ کو سماعت کے دوران جج کیلی نے ماضی کے عدالتی فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ وائٹ ہاؤس کے صحافتی پاسز منسوخ کرنے سے قبل صحافیوں کو مناسب پیشگی اطلاع اور اپنا مؤقف پیش کرنے کا موقع دیا جانا چاہیے تھا۔ عدالت نے قرار دیا کہ بظاہر وائٹ ہاؤس نے متاثرہ میڈیا اداروں کو پابندی کے خلاف مؤثر طور پر اپنا موقف پیش کرنے کا موقع نہیں دیا۔

محکمہ انصاف کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ وائٹ ہاؤس تک رسائی کوئی قانونی حق نہیں بلکہ ایک مراعات ہے اور صدر کو میڈیا اداروں کی رسائی معطل کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ حکومت نے مزید کہا کہ میڈیا اداروں کو بھیجے گئے خطوط میں پابندی کی مناسب وضاحت موجود تھی، تاہم جج نے اس دلیل پر سوالات اٹھائے کیونکہ یہ خطوط پابندی عائد کیے جانے اور مقدمہ دائر ہونے کے بعد بھیجے گئے تھے۔

اس معاملے میں آزادیٔ صحافت کی متعدد تنظیموں اور درجنوں میڈیا اداروں نے بھی عدالت میں تینوں نیوز اداروں کی حمایت میں قانونی دستاویز جمع کرائی۔ ان کا مؤقف تھا کہ کسی میڈیا ادارے کی ادارتی پالیسی یا رپورٹنگ کے انداز کی بنیاد پر اس کے صحافیوں کے حقوق محدود کرنا امریکی سپریم کورٹ کے طویل عرصے سے قائم قانونی اصولوں سے متصادم ہے۔ حمایت کرنے والوں میں Reporters Committee for Freedom of the Press، Reuters، واشنگٹن پوسٹ اور Fox News سمیت دیگر ادارے شامل ہیں۔

یہ عدالتی جنگ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب 3 نومبر کو امریکی وسط مدتی انتخابات ہونے والے ہیں جن میں ری پبلکنز کانگریس میں اپنی اکثریت برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ دوسری جانب ٹرمپ انتظامیہ اور امریکی میڈیا کے درمیان وائٹ ہاؤس تک رسائی اور رپورٹنگ کے معاملے پر کشیدگی بھی جاری ہے۔

عدالت کا تازہ حکم فی الحال 14 روز کے لیے نافذ ہے، جبکہ مقدمے کی قانونی کارروائی آگے بھی جاری رہے گی۔

متعلقہ خبریں