ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران امریکا کے ساتھ جنگ میں فوجی دباؤ کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالے گا تاہم تہران تنازع کے خاتمے کے لیے سفارتی راستہ اختیار کرنے پر یقین رکھتا ہے۔
مسعود پزشکیان نے اپنے خطاب کے دوران ایران پر ہونے والے حملوں کا ذکر کرتے ہوئے شہید ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای اور میناب میں حملوں کا نشانہ بننے والے اسکول کے بچوں کی تصاویر بھی پیش کیں۔
ایرانی صدر نے کہا کہ امریکا نے ایران کے ایک قصبے پر کلسٹر بم استعمال کیے جس کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت عام شہریوں کی ہلاکتیں ہوئیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اسپتالوں اور اسکولوں کو بھی حملوں کا نشانہ بنایا گیا جن میں عالمی قوانین کو نظر انداز کیا گیا جب کہ ان کارروائیوں کے نتیجے میں سیکڑوں افراد جاں بحق اور ہزاروں بے گھر ہوئے۔
مسعود پزشکیان نے ایران کے خلاف دہشت گردی کے الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایران دہشت گردی نہیں کررہا بلکہ جارحیت کے خلاف اپنا دفاع کررہا ہے۔
ایرانی صدر کے مطابق تہران نے اپنے دفاع کا حق استعمال کیا اور جوابی کارروائیوں میں امریکی اہداف کو نشانہ بنایا گیا، عام شہریوں کو نہیں۔
عالمی برادری کے مبینہ دوہرے معیار پر تنقید کرتے ہوئے مسعود پزشکیان نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے قتل عام کے باوجود پابندیاں ایران پر عائد کی جاتی ہیں جو دوہرے معیار کی مثال ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے ایرانی صدر نے کہا کہ ایران کو دہشت گرد قرار دینا درست نہیں کیونکہ ایرانی عوام خود دہشت گردی کا نشانہ بنے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ دھمکیاں اور خطرات ایرانی قوم کو تقسیم کرنے کے بجائے متحد کرتے ہیں۔
آبنائے ہرمز کے حوالے سے مسعود پزشکیان نے کہا کہ اس آبی گزرگاہ کو ایسے ہتھیاروں کی ترسیل کے لیے استعمال نہیں ہونے دیا جاسکتا جو ایران کے خلاف استعمال کیے جائیں۔
دوسری جانب ایرانی صدر کا خطاب شروع ہوتے ہی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں موجود امریکی مندوب نے اجلاس سے واک آؤٹ کردیا۔




















