Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

سعودی عرب کے مختلف شہروں میں ممکنہ خطرے کا الرٹ جاری

ایسی وارننگز عموماً ممکنہ میزائل یا ڈرون خطرے کے پیش نظر جاری کی جاتی ہیں

سعودی عرب میں ایک بار پھر سکیورٹی الرٹ جاری کردیا گیا، سعودی سول ڈیفنس نے جمعرات کو مکہ مکرمہ سمیت متعدد علاقوں میں ممکنہ خطرے سے متعلق مختصر وارننگز جاری کیں، جنہیں چند منٹ بعد ختم کردیا گیا۔

سعودی سول ڈیفنس کے مطابق نیشنل ارلی وارننگ پلیٹ فارم کے ذریعے مکہ شہر میں ممکنہ خطرے سے آگاہ کرنے کے لیے وارننگ جاری کی گئی، جبکہ بحیرہ احمر کے گورنریٹ ینبع کے علاوہ طائف، جدہ اور تبوک کے علاقوں کے لیے بھی الگ الرٹس جاری کیے گئے۔

ایسی وارننگز عموماً ممکنہ میزائل یا ڈرون خطرے کے پیش نظر جاری کی جاتی ہیں۔ تاہم جمعرات کے الرٹس ختم ہونے کے بعد حکام کی جانب سے کسی حملے، جانی نقصان یا تباہی کی اطلاع سامنے نہیں آئی۔

حالیہ ہفتوں کے دوران سعودی عرب میں جاری کیے جانے والے بعض سکیورٹی الرٹس کے بعد یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے حملے بھی سامنے آئے ہیں۔ گزشتہ ہفتے سعودی عرب نے الزام عائد کیا تھا کہ حوثیوں نے 2017 کے بعد پہلی مرتبہ مکہ مکرمہ کی جانب ڈرون بھیجا، جسے سعودی فضائی دفاع نے مار گرایا، تاہم حوثیوں نے مکہ کو نشانہ بنانے کی تردید کی تھی۔

اس واقعے کے چند روز بعد حوثیوں نے سعودی دارالحکومت ریاض پر بھی حملہ کیا۔ سعودی حکام کے مطابق 19 ستمبر کو ریاض کی جانب داغا گیا بیلسٹک میزائل روک دیا گیا، جبکہ حوثیوں نے سعودی عرب کے دیگر علاقوں میں میزائل اور ڈرون حملوں کی ذمہ داری بھی قبول کی۔

رواں کشیدگی کے دوران حوثیوں نے سعودی عرب کے تیل اور بحیرہ احمر سے متعلق تنصیبات کو بھی نشانہ بنانے کے دعوے کیے ہیں، جبکہ سعودی قیادت والے اتحاد نے متعدد میزائل اور ڈرون حملوں کو ناکام بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ ریاض پر حالیہ حملہ اس نئی کشیدگی کے دوران سعودی دارالحکومت پر حوثیوں کا پہلا میزائل حملہ قرار دیا گیا ہے۔

یمن میں حوثی گروپ 2015 سے سعودی عرب کی قیادت میں قائم اتحاد کے خلاف لڑ رہا ہے، جو بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کی حمایت کرتا ہے۔ حالیہ عرصے میں حوثیوں کے سعودی عرب کے خلاف حملوں میں اضافہ ہوا ہے، جس سے یمن کا تنازع وسیع تر مشرق وسطیٰ کی کشیدگی سے مزید جڑ گیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق رواں ماہ حوثیوں نے بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں میں اپنی پوزیشن مضبوط کرتے ہوئے باب المندب آبنائے کے قریب اہم علاقوں پر کنٹرول حاصل کیا، جو سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے لیے تیل کی ترسیل اور عالمی بحری تجارت کے حوالے سے انتہائی اہم راستہ ہے۔

جولائی میں حوثیوں اور یمنی حکومت کے درمیان 2022 سے جاری نازک جنگ بندی بھی شدید کشیدگی کی نذر ہوگئی تھی۔ اس کے بعد حملوں میں اضافہ ہوا اور حوثیوں نے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی اور سعودی تیل بردار جہازوں و علاقوں کو نشانہ بنانے کے اعلانات کیے۔

یمن میں حوثیوں کی پیش قدمی نے خطے میں ایران اور اس کے اتحادیوں کے اثر و رسوخ کو مزید مضبوط کیا ہے، جبکہ باب المندب اور بحیرہ احمر سمیت اہم آبی راستوں کی سکیورٹی پر بھی خدشات بڑھ گئے ہیں۔ یہ راستے خلیجی ممالک، خصوصاً دنیا کے بڑے تیل برآمد کنندہ سعودی عرب، کی عالمی منڈیوں تک تیل کی ترسیل کے لیے اہم ہیں۔

تازہ مکہ مکرمہ الرٹ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سعودی عرب پہلے ہی حوثیوں کے بڑھتے ہوئے میزائل اور ڈرون حملوں کے باعث سکیورٹی دباؤ میں ہے۔ تاہم جمعرات کے وارننگز کے حوالے سے سعودی حکام نے کسی نئے حملے کی تصدیق نہیں کی۔

متعلقہ خبریں