ٹماٹر کا شمار ایک انتہائی صحت بخش اور ورسٹائل سبزی میں کیا جاتا ہے اس کا سرخ رنگ کئی امراض سے تحفظ فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے تاہم ایک نئی تحقیق میں اس کے اندر موجود ایک ایسے بے رنگ جزو کی نشاندہی کی گئی ہے جو جگر کو چربی جمع ہونے سے بچانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
فیٹی لیور کیا ہے؟
دنیا بھر میں آبادی کا بڑا حصہ جگر کی چربی یا فیٹی لیور ڈیزیز کا شکار ہے بالخصوص مردوں میں نان الکحلک فیٹی لیور کا مرض زیادہ پایا جاتا ہے۔ اس میں جگر پر غیرمعمولی چکنائی جمع ہوجاتی ہے۔ اس کے بعد خون میں لوتھڑے بننے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے اور یہاں تک کہ جگر کی مختلف بیماریاں پیدا ہوسکتی ہیں جبکہ سنگین صورتوں میں یہ کیفیت جگر کے سکڑنے یعنی سیروسس تک بھی پہنچ سکتی ہے۔
ٹماٹر میں موجود لائکوپین پہلے ہی اپنی اینٹی آکسیڈنٹ خصوصیات کے باعث خاصی توجہ حاصل کرچکا ہے۔ یہی جزو پکے ہوئے ٹماٹروں کو سرخ رنگ دیتا ہے۔
تاہم گزشتہ جانوروں پر کی جانے والے مطالعے میں ٹماٹر کے پاؤڈر نے بعض صورتوں میں خالص لائکوپین سے بہتر نتائج دیے ہیں۔ اس سے محققین نے اندازہ لگایا کہ ٹماٹر کے فوائد صرف لائکوپین تک محدود نہیں بلکہ اس میں موجود کئی مرکبات مل کر جگر کی حفاظت میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔
نئی تحقیق میں فائٹوئن ایک اہم جز کے طور پر سامنے آیا ہے۔ فائٹوئن ایک بے رنگ کیروٹینوئڈ ہے جسے پودے لائکوپین اور دیگر کیروٹینوئڈز بنانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ یہ مرکبات مختلف سرخ، نارنجی اور زرد پھلوں اور سبزیوں میں پائے جاتے ہیں۔
اس کے اثرات کو پرکھنے کے لیے محققین نے چوہوں کو چھ ماہ تک ریفائنڈ کاربوہائیڈریٹس سے بھرپور غذا دی۔ یہ غذائی نظام انسانوں میں فیٹی لیور کی بیماری سے جڑے کھانے پینے کے طریقوں کی نقل کے لیے بنایا گیا تھا جس میں میٹھی غذاؤں اور مشروبات کا بار بار استعمال شامل ہے۔ آدھے چوہوں نے فائٹوئن کی اتنی مقدار بھی حاصل کی جو ایک انسان کے روزانہ تین سے چار درمیانے سائز کے کچے ٹماٹر یا 100 گرام ٹماٹر کا پیسٹ ۔ یعنی ایک کپ کے ایک تہائی سے کچھ زیادہ ۔ کھانے کے برابر ہے۔
محققین کی ٹیم نے فائٹوئن حاصل کرنے والے اور نہ حاصل کرنے والے چوہوں کے جگر کی صحت، میٹابولک عمل اور آنتوں کے بیکٹیریا کا معائنہ کیا۔ محققین نے نر اور مادہ اور عام چوہوں اور ان جانوروں کے درمیان بھی موازنہ کیا جن میں دو ایسے انزائمز کی کمی تھی جو کیروٹینوئڈز کو حیاتیاتی طور پر فعال میٹابولائٹس میں تبدیل کرتے ہیں۔ فائٹوئن کھانے والے چوہوں میں وہی غیر صحت بخش غذا کھانے کے باوجود فیٹی لیور کی بیماری کی شدت نمایاں طور پر کم دیکھی گئی۔
تحقیق کے دوران ایک غیر متوقع نتیجہ بھی سامنے آیا۔ ایسے چوہے جن میں کیروٹینوئڈز کو فعال میٹابولائٹس میں تبدیل کرنے والے دو اہم انزائمز موجود نہیں تھے، ان کے جسم میں فائٹوئن زیادہ مقدار میں جمع ہوا، لیکن انہیں جگر کے لیے وہی حفاظتی فائدہ حاصل نہیں ہوا۔
مطالعے کے نتائج کے مطابق فائٹوئن سے بھرپور پھل اور سبزیاں کھانے کی ترغیب دینا ایک مفید حکمت عملی ہو سکتی ہے تاکہ ان افراد میں جگر کی میٹابولک بیماریوں سے بچاؤ یا ان کے پھیلاؤ کو سست کرنے میں مدد مل سکے جنہیں زیادہ خطرہ لاحق ہے۔




















