اسرائیل کے انتخابات میں وزیرِاعظم بن یامین نیتن یاہو اور ان کے حریف گادی آئزنکوٹ کے درمیان اقتدار کی کشمکش شدت اختیار کرگئی، تاہم ابتدائی نتائج اور ایگزٹ پولز میں کوئی بھی فریق واضح اکثریت حاصل کرتا نظر نہیں آیا۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے دائیں بازو کی مضبوط قومی حکومت بنانے کا مطالبہ کیا، جبکہ گادی آئزنکوٹ نے دعویٰ کیا کہ ووٹرز نے نیتن یاہو کو اقتدار میں برقرار رکھنے کے خلاف فیصلہ دیا ہے اور انہیں سیاست سے کنارہ کشی اختیار کرنی چاہیے۔
ابتدائی ایگزٹ پولز کے مطابق مختلف اسرائیلی ٹی وی چینلز نے دونوں بڑے سیاسی اتحادوں کے لیے تقریباً برابر نشستوں کی پیش گوئی کی، جبکہ ایک سروے میں نیتن یاہو کے اتحاد کو معمولی برتری حاصل رہی۔ تاہم 120 رکنی پارلیمان میں حکومت بنانے کے لیے 61 نشستیں درکار ہیں اور کسی بھی اتحاد کو واضح اکثریت ملتی دکھائی نہیں دی۔
رپورٹ کے مطابق انتہائی دائیں بازو کی جماعتیں نیتن یاہو کے اتحاد میں تقریباً 13 نشستیں حاصل کرسکتی ہیں، جبکہ دونوں بڑے اتحادوں سے باہر عرب جماعتیں حکومت سازی میں فیصلہ کن کردار ادا کرسکتی ہیں۔ تاہم آئزنکوٹ کی جانب سے ان جماعتوں کے ساتھ حکومت بنانے سے گریز ان کے لیے مشکلات پیدا کرسکتا ہے۔
نیتن یاہو نے ایران کو اسرائیل کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ مل کر کارروائی کے امکان کا بھی ذکر کیا، جبکہ آئزنکوٹ نے خبردار کیا کہ ملکی سلامتی کو سیاسی مفادات کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے۔
اسرائیل میں ووٹر ٹرن آؤٹ 77.7 فیصد رہا، جو دو دہائیوں سے زائد عرصے میں بلند ترین شرح قرار دیا گیا۔ حتمی نتائج کے بعد حکومت سازی کے لیے طویل مذاکرات متوقع ہیں، جبکہ ناکامی کی صورت میں دوبارہ انتخابات بھی کرانا پڑسکتے ہیں۔




















