امریکا میں وسط مدتی انتخابات کے لیے مختلف ریاستوں میں ووٹنگ کا عمل جاری ہے، جہاں کانگریس کے ایوانِ نمائندگان، سینیٹ، گورنروں اور ریاستی اسمبلیوں کی نشستوں پر امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہو رہا ہے۔ ان انتخابات میں تقریباً 51 مسلمان امیدوار بھی اپنی کامیابی کے لیے میدان میں موجود ہیں۔
امریکی ریاستوں نیویارک، نیوجرسی، ورجینیا، کنیکٹی کٹ، جارجیا اور فلوریڈا سمیت مختلف علاقوں میں ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کر رہے ہیں، جبکہ ریاست ورمونٹ میں سب سے پہلے پولنگ کا آغاز ہوا، جہاں ووٹنگ کا وقت صبح 5 بجے سے شام 7 بجے تک مقرر کیا گیا ہے۔
ان انتخابات میں ایوانِ نمائندگان کی تمام 435 نشستوں اور سینیٹ کی 35 نشستوں پر انتخاب ہوگا، جبکہ نائب صدر جے ڈی وینس اور وزیر خارجہ مارکو روبیو کی خالی ہونے والی نشستوں پر بھی ووٹنگ شیڈول کا حصہ ہے۔ اس کے علاوہ 36 ریاستوں میں گورنروں اور ریاستی اسمبلیوں کے انتخاب کے لیے بھی ووٹرز اپنے نمائندوں کا فیصلہ کریں گے۔
امریکا میں صدارتی انتخابات کے دو سال بعد ہونے والے مڈٹرم انتخابات کو صدر کی حکومتی کارکردگی کا عوامی جائزہ بھی سمجھا جاتا ہے، کیونکہ ان کے نتائج سے کانگریس میں حکمران جماعت کی پوزیشن اور آئندہ دو برس کے سیاسی فیصلوں پر گہرے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔
ان انتخابات کا ایک اہم پہلو مسلمان امیدواروں کی نمایاں شرکت ہے۔ دستیاب انتخابی تفصیلات کے مطابق تقریباً 51 مسلمان امیدوار مختلف نشستوں پر قسمت آزما رہے ہیں، جن میں سے 10 امیدوار ایوانِ نمائندگان کی انتخابی دوڑ میں شامل ہیں۔ ان میں سات امیدواروں کا تعلق ڈیموکریٹک پارٹی سے بتایا گیا ہے۔
نمایاں امیدواروں میں انڈیانا سے آندرے کارسن، منی سوٹا سے الہان عمر اور مشی گن سے رشیدہ طلیب شامل ہیں۔ نیوجرسی سے ڈاکٹر آدم حماوی، کیلیفورنیا سے عائشہ وہاب اور لطیفہ سائمن جبکہ نیویارک سے ڈاریالیزا آویلا شیوالیز بھی انتخابی میدان میں موجود ہیں۔
ری پبلکن پارٹی کے امیدوار زہدی جاسراریزوونا بھی انتخابی مقابلے میں حصہ لے رہے ہیں، جبکہ ورجینیا سے احسان مجیب ملک اور الہ احرار آزاد امیدواروں کی حیثیت سے اپنی قسمت آزما رہے ہیں۔
امریکی مڈٹرم انتخابات کے نتائج نہ صرف کانگریس میں سیاسی جماعتوں کی طاقت کا تعین کریں گے بلکہ صدر کی پالیسیوں، قانون سازی اور آئندہ سیاسی حکمت عملی پر بھی اثرانداز ہوں گے۔


















