ماسکو: ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے خطے کے ممالک پر زور دیا ہے کہ ایران کے خلاف کسی نئی امریکی جنگ کی حمایت نہ کریں۔ علاقائی ممالک ماضی کے واقعات سے سبق سیکھ چکے ہوں گے اور جنگ کی حوصلہ افزائی کے بجائے کشیدگی کم کرنے کے لیے کردار ادا کریں گے۔
روسی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے عباس عراقچی نے کہا کہ ایران نے خلیجی ہمسایہ ممالک کو نشانہ نہیں بنایا بلکہ صرف خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو ہدف بنایا تھا ایران نے پہلے ہی خبردار کردیا تھا کہ حملے کی صورت میں خطے میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکی حملے کی صورت میں جوابی کارروائی سے متعلق پیشگی اطلاع دے دی گئی تھی جبکہ خلیجی ممالک میں ایرانی میزائل گرنے کی ذمہ داری ایران پر عائد نہیں ہوتی۔
عباس عراقچی نے کہا کہ خطے کے ممالک اب سمجھ چکے ہیں کہ امریکی فوجی اڈے انہیں تحفظ فراہم نہیں کرسکتے بلکہ وہ خود بھی اپنی حفاظت کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔
انہوں نے دوست ممالک پر زور دیا کہ امریکا کو ایک نئی جنگ شروع کرنے سے روکنے میں اپنا کردار ادا کریں، جنگ کی حوصلہ افزائی کرنے کے بجائے خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوشش کی جانی چاہیے۔
مجتبیٰ خامنہ ای سے متعلق سوال پر ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ سیکیورٹی خدشات کے باعث ان کی تصاویر جاری نہیں کی جا رہیں۔ مجتبیٰ خامنہ ای بطور سپریم لیڈر تمام معاملات کی نگرانی کررہے ہیں اور ریاستی فیصلے ان کے سامنے پیش کیے جاتے ہیں۔
عباس عراقچی کا مزید کہنا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ ای انتہائی متحرک انداز میں اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں تاہم موجودہ حالات میں محتاط رہنا ضروری ہے کیونکہ ایران کو ایسے دشمنوں کا سامنا ہے جو اہم شخصیات کو نشانہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔


















