امریکا میں وسط مدتی انتخابات کے لیے پولنگ آج ہوگی جس میں ایوانِ نمائندگان، سینیٹ اور مختلف ریاستوں کے گورنرز کے انتخاب کے لیے ووٹرز اپنا حقِ رائے دہی استعمال کریں گے۔
نیویارک، نیوجرسی، کنیکٹیکٹ، ورجینیا اور مسوری میں پولنگ کا آغاز مقامی وقت کے مطابق صبح 6 بجے ہوگا جبکہ واشنگٹن، میری لینڈ اور پنسلوینیا میں ووٹنگ صبح 7 بجے شروع ہوگی۔ پولنگ کا عمل رات 8 بجے تک جاری رہے گا جس کے بعد ووٹوں کی گنتی اور نتائج سامنے آنے کا سلسلہ شروع ہوگا۔
پاکستانی وقت کے مطابق امریکا میں پولنگ کا آغاز شام 4 بجے سے ہوگا۔ ان انتخابات میں ایوانِ نمائندگان کی تمام 435 نشستوں، سینیٹ کی 33 براہِ راست منتخب ہونے والی نشستوں اور 2 مخصوص نشستوں پر مقابلہ ہوگا جبکہ امریکا کی 36 ریاستوں میں گورنرز کے انتخاب کے لیے بھی ووٹ ڈالے جائیں گے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سمیت لاکھوں ووٹرز پہلے ہی قبل از وقت اپنا ووٹ کاسٹ کر چکے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے ریاست فلوریڈا میں اپنا ووٹ ڈالا تھا۔
انتخابات میں مشی گن، نارتھ کیرولائنا، ٹیکساس، الاسکا اور اوہائیو سمیت کئی اہم ریاستوں میں کانٹے دار مقابلے متوقع ہیں جبکہ کنساس، جارجیا اور آئیووا میں بھی ڈیموکریٹس اور ریپبلکنز کے درمیان سخت مقابلہ دیکھنے کو مل سکتا ہے۔
اب تک سامنے آنے والے انتخابی سرویز کے مطابق اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹس کو برتری حاصل ہے جبکہ پانچ کروڑ سے زائد نوجوان رجسٹرڈ ووٹرز کے ووٹ انتخابی نتائج پر فیصلہ کن اثر ڈال سکتے ہیں۔
امریکی سینیٹ میں کس کا راج ہوگا؟
امریکا میں وسط مدتی انتخابات کے لیے ووٹنگ میں چند گھنٹے باقی ہیں جس کے بعد فیصلہ ہوگا کہ ایوان نمائندگان اور سینیٹ میں ری پبلکن اور ڈیموکریٹک جماعتوں میں سے کون اپنی سیاسی پوزیشن مستحکم کرنے میں کامیاب ہوتی ہے۔
ونیورسٹی آف فلوریڈا کے اعدادوشمار کے مطابق اب تک امریکی انتخابی تاریخ میں ریکارڈ 5 کروڑ 27 لاکھ سے زائد شہری اپنا ووٹ کاسٹ کرچکے ہیں۔
سروے رپورٹ میں ایوان نمائندگان کی 435 نسشتوں کے انتخاب میں ڈیموکریٹ پارٹی کی جیت کے امکانات روشن دیکھائی دے رہے ہیں جبکہ سینیٹ میں دونوں پارٹیوں رپپلیکن اور ڈیموکریٹک میں کچھ نسشتوں پر مقابلہ کانٹے دار ہونے کی توقع کی جارہی ہے۔
ٹرمپ کی مقبولیت کی شرح 32 فیصد پر مستحکم
رائٹرز/ اپسوس کے سروے کے مطابق وسط مدتی انتخابات سے قبل ٹرمپ کی مقبولیت کی شرح 32 فیصد پر مستحکم ہے جو ریکارڈ کم ترین سطح کے قریب ہے۔
46 فیصد رجسٹرڈ ووٹروں نے کہا کہ وہ کانگریس کے انتخابات میں ڈیموکریٹس کو منتخب کریں گے، جبکہ 38 فیصد نے ریپبلکنز کا انتخاب کیا۔
انتخابات میں ریپبلکنز کو مشکلات کا سامنا
رپورٹ کے مطابق انتخابات سے قبل ہونے والے سروے ظاہر کرتے ہیں کہ ڈیمو کریٹس کو کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اکثریت حاصل کرنے کا موقع مل سکتا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو معیشت، ایران کے ساتھ جنگ اور عوامی مقبولیت میں کمی جیسے مسائل کا سامنا ہونے کی وجہ سے ٹیکساس اور کنساس جیسی روایتی ریپبلکن ریاستوں میں بھی انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے میں مشکل پیش آ سکتی ہے۔
امریکی صدر نے چیلنجنگ صورتِ حال ہونے کے باوجود بھی امید ظاہر کی ہے کہ ریپبلکن پارٹی انتخابات میں کامیابی حاصل کرے گی۔
میں مسٹر ویٹو بن جاؤں گا، ٹرمپ کا ڈیموکریٹس کو دوٹوک پیغام
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی تو میں ’مسٹر ویٹو‘ بن جاؤں گا اور انہیں حکومتی معاملات خراب کرنے کی اجازت نہیں دوں گا۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ماضی میں ایسی مثالیں موجود ہیں جب امریکی صدور کو ایوانِ نمائندگان یا سینیٹ میں اپنی جماعت کی حمایت حاصل نہیں تھی اس کے باوجود حکومت کے معاملات چلائے گئے۔


















