تصویر میں نظر آنے والے ان معمولی چہروں نے انٹرنیٹ صارفین کے ذہن گھما دیے ہیں۔
حالیہ برسوں میں اے آئی امیج جنریٹر پلیٹ فارمز کی تعداد میں کافی اضافہ ہوا ہے جو تحریری ہدایات کے مطابق دنگ کردینے والی تصاویر تیار کرسکتے ہیں، ایسا ہی ایک پلیٹ فارم مڈ جرنی بھی ہے۔
ایک ٹوئٹر صارف نے اس پلیٹ فارم کی چند تصاویر ٹوئٹ کیں جنہوں نے صارفین کو کشمکش میں مبتلا کر دیا۔
Midjourney is getting crazy powerful—none of these are real photos, and none of the people in them exist. pic.twitter.com/XXV6RUrrAv
— Miles (@mileszim) January 13, 2023
ان تصاویر کو دیکھ کر لگتا ہے جیسے انہیں کسی پارٹی میں پولو رائیڈ کیمرے سے لیا گیا تھا مگر حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔
کیونکہ ایسی کوئی پارٹی کبھی نہیں ہوئی اور یہ افراد بھی حقیقی دنیا میں موجود نہیں، یہ سب مڈ جرنی اے آئی کا تصور ہے۔
شیئر کی گئی تصاویر کو اگر ہم دیکھیں تو یہ عام انسان لگتے ہیں لیکن اگر غور سے دیکھیں تو اندازہ ہو گا کہ یہ اصلی نہیں کیونکہ ان کی جلد پر حد سے زیادہ چمک ہے اور ان کی گردن کی بناوٹ بھی مختلف ہے۔
I had to be specific in order to get male-looking AI people—and even then, variation is a challenge. It definitely defaults to white people when you ask for “people”. pic.twitter.com/x3P0LKL7MU
— Miles (@mileszim) January 13, 2023
دوسری جانب ماہرین نے خطرہ ظاہر کیا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے ڈیپ فیک تصاویر یا ویڈیوز بنائی جا سکتی ہیں۔
