امریکی ٹیکنالوجی کمپنی کے ایک ماہر خود کو جوان رکھنے کے لیے سالانہ 20 لاکھ ڈالر خرچ کر رہے ہیں۔
45 سالہ برائن جانسن نے اس حوالے سے بتایا کہ ان کے دل کی طبعی عمر 37 سال، جلد 28 سال ہے اور پھیپھڑے 18 عمر کے نوجوان کی طرح کام کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس کے لیے وہ سالانہ اوسطاً 52 کروڑ روپے خرچ کرتے ہیں۔
تقریباً 30 ڈاکٹر ان کے جسمانی اعضا کو نوٹ کرتے ہوئے اس پر عمر کے اثرات کم کرنے میں کوشاں ہیں۔
دوسرے ماہرین کا گروہ بڑھاپے کو پلٹانے کا گہرا سائنسی مطالعہ کر کے انہیں مفید مشورے بھی دیتا ہے، اس کی روشنی میں مہنگی اور بہترین غذائیں اور دوائیں دی جارہی ہیں۔
پروجیکٹ بلوپرنٹ‘ کے تحت ان کی غذا کا چارٹ تیار کیا جاتا ہے، ورزش کے اوقات اور اقسام کے علاوہ نیند کا دورانیہ بھی نوٹ کیا جاتا ہے۔
ہر ماہ ان کے ایم آر آئی، خون کے ٹیسٹ اور دیگر اقسام کے ٹیسٹ بھی کئے جاتے ہیں، ان کے جسم میں چکنائی کی مقدار مشکل سے 5 تا 6 فیصد ہوگی جو ایک اہم کامیابی بھی ہے۔
وہ روزانہ سات کریمیں استعمال کرتے ہیں، مہینے میں ایک مرتبہ لیزر تھراپی کراتے ہیں، صبح 5 بجے بیدار ہوتے ہیں اور دن میں 25 سے زائد ادویہ اور سپلیمنٹ کھاتے ہیں یہاں تک کہ برش کرنے کے بعد اینٹی آکسیڈنٹ جیل بھی استعمال کرتے ہیں۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ وہ اپنا سرمایہ ضائع کر رہے ہیں کیونکہ بڑھاپا کسی کو نہیں بخشتا۔
تاہم برائن جانسن کے مطابق وہ عمر رسیدگی کو سست کر کے تادیر جوان رہنا چاہتے ہیں۔
