Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

پاکستانی درخت کی 125 برس سے قید میں رہنے کی اصل وجہ سامنے آگئی

پاکستان کے شہر پشاور میں ایک درخت ایک سو پچیس سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود بھی زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے۔ واضح رہے کہ 1899 میں ایک انگریز آفیسر نے سزا کے طور پراس درخت کو زنجیروں میں جکڑا تھا اور یہی وجہ ہے کہ یہ دنیا کا واحد درخت ہے جو اب تک قید میں ہے۔

ایک سو پچیس سال پہلے ایک انگریزآفیسر جیمس اسکوئڈ نے اس درخت پر الزام لگایا تھا کہ وہ جتنا اس درخت کے قریب جاتا ہے یہ درخت اس سے دور بھاگتا ہے یہی وجہ ہے کہ اس نے غصے میں آکر اس درخت کو سزا دینے کا فیصلہ کیا۔

حقیقت یہ ہے کہ جیمس اسکوئڈ نشے میں تھا اور اسے شعور ہی نہیں تھا کہ درخت اس کے قریب ہے یا دور جب بھی وہ اسے آغوش میں لینے کے لیے آگے بڑھتا تو وہ کبھی آگے نکل جاتا اور کبھی پیچھے۔ یہ درخت لنڈی کوتل میں واقع ہے جو کہ پشاورشہر کے قریب ہی ایک علاقہ ہے۔

انگریزآفیسر نے اس کے بعد اپنے سپاہیوں کو کہا کہ اس درخت کو شاخوں سے موٹی موٹی زنجیریں باندھ کر زمین سے جکڑ دیا جائے تاکہ یہ درخت کہیں بھاگنے نہ پائے اور نہ دائیں اور بائیں حرکت کر سکے۔ اس کے بعد سے اب تک یہ درخت زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے اور اسے ایک سو پچیس سال سے زائد کا عرصہ ہوچکا ہے۔

اس درخت کے قریب ایک کتبہ لگا ہے جس کے اندر جلی حروف میں لکھا ہوا ہے کہ ہاں میں گرفتار ہوں اور اس کے نیچے اس کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں کہ نشے میں دھت ایک انگریز افیسر نے یہ محسوس کیا کہ میں دائیں بائیں گھوم رہا ہوں یا اس سے دور بھاگ رہا ہوں یہی وجہ ہے کہ اس کی پاداش میں اس نے مجھے گرفتار کرلیا اور آج تک میں زنجیروں کے اندر گرفتار ہوں۔

سیاحوں کی بڑی تعداد اس درخت کو دیکھنے کے لیے آتی ہے اور یاد کرتی ہے کہ برطانوی راج کے اندر انسان تو انسان درخت بھی قید کردیئے جاتے تھے۔

متعلقہ خبریں

Exit mobile version