آج ہم آپکو بتائیں گے کہ روزانہ 2 گھنٹے سے زیادہ موبائل فون کا استعمال کرنے سے صحت پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
ایک حالیہ تحقیق کے مطابق اسمارٹ فون کا طویل استعمال بالغ افراد کے لیے حرکت اور توجہ میں کمی، ہائپر ایکٹیویٹی ڈس آرڈر کی نشوونما کے خطرے کو بڑھا سکتا ہے۔
جی ہاں، تحقیق میں بتایا گیا کہ جو لوگ دن میں دو یا اس سے زیادہ گھنٹے اپنے اسمارٹ فون استعمال کرتے ہیں ان میں توجہ کی کمی کے باعث ہائپر ایکٹیویٹی ڈس آرڈر کا خطرہ 10 فیصد زیادہ ہوتا ہے۔
ماہرین نے بتایا کہ یہ عارضہ بنیادی طور پر چھوٹے بچوں سے جڑا ہوا ہے، اس بات کا امکان ہے کہ بچہ بڑے ہوتے ہی اس سے باہر نکل سکے گا، لیکن اسمارٹ فونز جیسے سوشل میڈیا، ٹیکسٹ میسجز، اسٹریمنگ میوزک، فلم یا ٹیلی ویژن کی وجہ سے پیدا ہونے والے خلفشار کا سبب بنتا ہے جو بچوں میں ہائپرایکٹیویٹی ڈس آرڈر کی وبا پیدا کر رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا لوگوں پر مسلسل معلومات کی بمباری کرتا ہے جس کی وجہ سے وہ اپنے فون چیک کرنے کے لیے اپنے کاموں سے وقفہ لیتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جو لوگ اپنا فارغ وقت ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے گزارتے ہیں وہ اپنے دماغ کو آرام نہیں دیتے اور کسی ایک کام پر توجہ مرکوز نہیں کرتے۔
محقیقین کے مطابق اس بات کی ہر ممکن حد تک کوشش کرنی چاہیئے کہ موبائل فون کا استعمال ضرورت کے وقت ہی کیا جائے، تاہم دو سے پانچ سال کی عمر تک کے بچے زیادہ سے زیادہ ایک گھنٹے تک موبائل فون استعمال کر سکتے ہیں، جبکہ نوجوانوں اور بڑوں کے لیے موبائل فون کے استعمال کا زیادہ سے زیادہ دورانیہ 2 گھنٹے ہے۔
