دنیا میں بھر بہت ہی عجیب وغریب کھیل کا انعقاد کیا جاتا ہے جسے دیکھ آپ حیران ہوجاتے ہیں کہ کیا انہیں بھی کھیل یا ریس کا درجہ دیا جانا چاہئے تھا، ایسی ہی ایک منفرد ریس برطانیہ میں منعقد کی جاتی ہے جس میں فرائی پین میں پین کیک کو اچھالتے ہوئے دوڑنا ہوتا ہے۔
واضح رہے کہ خواتین کی یہ پین کیک ریس برطانیہ میں پہلی بار 1445 میں شروع ہوئی تھی یہ ریس اگرچہ دوسری جنگ عظیم کے بعد کچھ عرصے کے لیے موقوف ہوگئی تھی لیکن اب بھی یہ سلسلہ جاری ہے اوراس سال بھی پوری آب وتاب سے اس ریس کا انعقاد کیا گیا ہے۔

گزشتہ ہفتے برطانیہ کے شہر آل نے میں یہ ریس منعقد کی گئی تھی اس ریس میں خواتین کوایک جیسا لباس اور ایپرن پہننا ہوتا ہے جس پروہ رنگ برنگے جوتے پہن کرفرائی پین میں پین کیک کو اچھالتے ہوئے دوڑتی ہیں اورانہیں ایک ٹارگٹ پوائنٹ تک پہنچنا ہوتا ہے اسی طرح اول دوم سوم کا اعلان بھی کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رواں برس بھی چند روز پہلے یہ ایک ریس منعقد ہوئی۔
اس ریس میں خواتین کو پین کیک کو فرائی پین کے اندر اچھالنا ہوتا ہے اور ایڑی کے بل دوڑنا ہوتا ہے اور کوشش کرنی ہوتی ہے کہ ان کے ہاتھ سے پین کیک نہ گرے۔ اس ریس میں تمام خواتین گھریلو ہوتی ہیں اور ذوق و شوق سے حصہ لیتی ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ پین کیک کا یہ مقابلہ اب نہ صرف برطانیہ کے دیگر علاقوں تک پھیل چکا ہے بلکہ امریکا کے شہر کینساس کے اندر بھی اس کا انعقاد کیا جانے لگا ہے۔
تاہم آسان سی نظر آنے والی یہ ریس اتنی بھی آسان نہیں ہے، اس ریس میں حصہ لینے والی خواتین کو ایتھلیٹک دوڑنے کی مشق ہونی چاہئےاور توازن کو برقرار رکھنا آنا چاہئے اور اس کے ساتھ ساتھ پین کو اچھالتے ہوئے آگے بڑھنے کی مہارت بھی ہونی چاہئے۔
رواں برس ہونے والی اس ریس میں خواتین کے ساتھ ساتھ اسکول کے بچوں نے بھی بڑے جوش خروش سے حصہ لیا اور اپنی صلاحیتوں کے ہنر دکھائے۔