Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

ایسی سرجری جس نے مادری زبان بھلادی، حیرت انگیز داستان

نوجوان نے انگریزی زیادہ تر اسکول میں سیکھی تھی، جو بیداری کے بعد اس کی واحد قابلِ استعمال زبان بن گئی

ایمسٹرڈیم: نیدرلینڈز میں ایک حیران کن طبی واقعہ سامنے آیا ہے جہاں ایک 17 سالہ لڑکا معمولی سرجری کے نتیجے میں اپنی مادری بھول گیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق نیدرلینڈز میں ایک 17 سالہ لڑکا گھٹنے کی معمول کی سرجری کے بعد ہوش میں آیا تو وہ اپنی مادری زبان ڈچ کے بجائے صرف انگریزی بول رہا تھا۔

ڈاکٹروں کے مطابق نوجوان نہ صرف ڈچ بولنے سے قاصر تھا بلکہ وہ اس زبان کو سمجھ بھی نہیں پا رہا تھا، حتیٰ کہ ابتدائی طور پر اپنے والدین کو پہچاننے میں بھی ناکام رہا۔

مزید پڑھیں: اسٹائلنگ یا کاسمیٹک سرجری؟ عائزہ خان کی نئی تصاویر نے مداحوں کو حیران کردیا

نوجوان نے انگریزی زیادہ تر اسکول میں سیکھی تھی، جو بیداری کے بعد اس کی واحد قابلِ استعمال زبان بن گئی۔

ابتدا میں اسپتال کے عملے نے اس کیفیت کو جنرل اینستھیزیا کا عارضی اثر سمجھا، تاہم جب کئی گھنٹوں بعد بھی حالت میں بہتری نہ آئی تو ڈاکٹروں کو تشویش لاحق ہوئی اور مزید معائنے کیے گئے۔

بعد ازاں ماہرین نے اس کیس کو فارِن لینگویج سنڈروم قرار دیا، جو ایک نہایت نایاب اعصابی عارضہ ہے اور جس کے اسباب اور میکانزم کو طبّی سائنس اب تک مکمل طور پر سمجھنے میں ناکام رہی ہے۔

طبی رپورٹس کے مطابق مریض کی کوئی سابقہ نفسیاتی بیماری نہیں تھی، نہ ہی سرجری کے دوران کوئی پیچیدگی پیش آئی، جبکہ گھٹنے کی سرجری تکنیکی طور پر کامیاب رہی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ فارِن لینگویج سنڈروم کے ایسے کیسز دنیا بھر میں بہت کم رپورٹ ہوتے ہیں اور عموماً دماغی صدمے یا اینستھیزیا کے بعد سامنے آ سکتے ہیں، تاہم بیشتر مریض وقت کے ساتھ اپنی مادری زبان دوبارہ حاصل کر لیتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Exit mobile version